یمن: سیاسی شراکت کے لیے ملیشیاؤں کے خاتمے کی شرط

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

یمن کی حکومت نے واضح کیا ہے کہ جب تک باغیوں کے عسکری گروپوں کو مکمل طور پر تحلیل نہیں کیا جاتا اس وقت انہیں حکومت میں شامل کرنے اور سیاسی شراکت پر کوئی بات نہیں کی جا سکتی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق کویت کی میزبانی میں جاری مذاکرات کے دوران حکومت وفد نے اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی اسماعیل ولد الشیخ احمد سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حوثیوں کی سیاسی شراکت سے قبل ان کی عسکری ملیشیاؤں کو ختم کرائیں۔

کویت مذاکرات میں شریک یمن کے سرکاری وفد کے سربراہ اور وزیرخارجہ عبدالملک المخلافی نے ایک بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ روز کے مذاکرات میں سپریم انقلابی کونسل کے قیام، اس کی ذیلی کمیٹیوں کی تشکیل، باغیوں کے انخلاء، ہتھیار ڈالنے اور باغیوں کے وضع کردہ دستور کی منسوخی پر بات چیت کی گئی۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائیٹ ٹوئٹرپرایک بیان میں المخلافی کا کہنا تھا کہ انہوں نے مذاکرات میں یہ تجویز بھی پیش کی گئی ہے کہ یمن کے بحران کے سیاسی حل اور سیاسی عمل رخنہ ڈالنے والوں پر عالمی پابندیاں عاید کرنے کا مطالبہ کیا جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے حوثیوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنی عسکری تنظیمیں ختم کرتے ہوئے سیاسی شراکت سے قبل سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں