شامی باغی ترکی سے داعش کے زیر قبضہ قصبے پر حملے کو تیار
سیکڑوں شامی باغی ترکی کی سرحد کے ساتھ واقع داعش کے زیر قبضہ قصبے جرابلس کا کنٹرول واپس لینے کے لیے ایک بڑے حملے کی تیاری کررہے ہیں۔
شام کے ایک باغی گروپ کے عہدے دار نے بتایا ہے کہ ترکی کے حمایت یافتہ جیش الحر کے پرچم تلے لڑنے والے باغی ترکی کی حدود سے آیندہ چند روز میں جرابلس پر دھاوا بول سکتے ہیں۔اس وقت مختلف دھڑے ترکی کے سرحدی علاقے میں اکٹھے ہورہے ہیں۔
جرابلس دریائے فرات کے مغربی کنارے پر واقع ہے اور ترکی کی سرحد کے ساتھ یہی ایک بڑا قصبہ داعش کے زیر قبضہ رہ گیا ہے۔ جیش الحر اور اس کے اتحادی گروپوں نے حال ہی میں جرابلس سے چوّن کلومیٹر مشرق میں واقع قصبے الرائی کو داعش سے چھین لیا ہے۔
اگر باغی گروپ جرابلس پر قبضہ کرلیتے ہیں تو اس طرح وہ کردوں اور عرب جنگجوؤں پر مشتمل شامی جمہوری فورسز (ایس ڈی ایف) کی اس قصبے پر ممکنہ چڑھائی کو بھی روک دیں گے۔اس اتحاد نے صوبہ حلب میں واقع منبج شہر پر 6 اگست کو داعش کو شکست دینے کے بعد قبضہ کیا تھا۔
جیش الحر کے پشتی بان ترکی کو یہ تشویش لاحق ہے کہ ایس ڈی ایف کے جنگجو داعش کے خلاف لڑائی کو شام کے شمالی علاقے میں اپنا اثر ورسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ جرابلس کے بالمقابل دریائے فرات کے مشرقی کنارے پر ایس ڈی ایف کا پہلے ہی قبضہ ہے۔داعش نے جمعہ کے روز جرابلس اور اس کے نزدیک واقع شہر الباب سے اپنے خاندانوں کو الرقہ منتقل کردیا ہے۔
مذکورہ باغی عہدے دار کا اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہنا تھا کہ ترکی کے ساتھ واقع شام کے سرحدی علاقے سے داعش کا اثرورسوخ ختم کرنے کے لیے جرابلس پر حملہ مشکل ہوگا۔وہ یقیناً مزاحمت کریں گے اور شہر میں بارودی سرنگین بچھا دیں گے۔ اس لیے جرابلس میں داخل ہونے کے لیے آپریشن آسان نہیں ہوگا۔