.

داعش کا خلیفہ خفیہ ٹھکانے سے کیوں باہر نکلا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

انتہا پسند تنظیم دولت اسلامیہ عراق و شام المعروف داعش کے خود ساختہ خلیفہ بغداد سے 405 کلومیٹر کی دوری پر واقع اپنے خفیہ ٹھکانوں پر شدید حملوں سے ڈر کر منگل کے روز موصل شہر کی ایک کالونی میں باہر نکل آئے۔

اس امر کا انکشاف نینوی گورنری سے نشریات پیش کرنے والے عراقی نیوز چینل"السومریہ" نے مقامی ذرائع کے حوالے سے کیا ہے۔ چینل نے ذرائع کی درخواست پر ان کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ ذرائع کے مطابق داعش کے شعبہ اطلاعات نے اپنے خلیفہ کے منظر عام پر دکھائی دینے کی کارروائی کو ہنگامی حالت سے نپٹنے کی ایک کارروائی دیا ہے۔

ذرائع نے 'السومریہ نیوز' سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ البغدادی نے موصل شہر کی 'الرسالہ' کالونی میں عام شہریوں سے ملاقات کی۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ ان ملاقاتوں کی 'السومریہ' نیوز چینل کی سکرین سے لی گئی تصاویر بھی نشر کر رہا ہے۔ ذرائع کے مطابق لرزہ خیز حملے کے بعد ابوبکر البغدادی اپنے ٹھکانے سے سفید رنگ کی فور بائی فور گاڑی میں نکلا، اسے مسلح سیاہ نقاب پوشوں کی تین گاڑیوں نے اپنے حصار میں لے رکھا تھا۔ یہ پہلا موقع ہے کہ کئی مہینوں بعد موصل میں البغدادی کو ایسے کھلے انداز میں باہر دیکھا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق "البغدادی کا کھلے عام کالونی میں نظر آنا موصل پر کئے جانے والے حملوں کی شدت کو ظاہر کرتا ہے، تاہم داعش کا میڈیا سیل اس کارروائی کو ہنگامی حالات سے نپٹنے کی مشق قرار دے کر رائے عامہ کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ میڈیا سیل کے مطابق الرسالہ کالونی میں نیم کرفیو کی کیفیت ہے کیونکہ داعش کے مسلح جنگجوؤں کی بڑی تعداد شہر کے اہم مقامات کے گرد پھیلی ہوئی ہے۔

نینوی گورنری کے وسطی شہر موصل پر داعش نے جون 2014 میں قبضہ کیا تھا۔ منگل کے روز اس شہر میں بے چینی کی لہر دیکھی گئی جس کے بعد شہر کے داخلی راستے بند کر دیئے اور مسلح دستے شہر میں گشت کرنے لگے اور انہوں نے ان کالونیوں کا محاصرہ کر لیا جہاں پر مبینہ طور پر داعش کی قیادت مقیم تھی۔