"اگلا ہدف چھوٹا ہاتھی"۔۔۔ زرافہ ذبح کرنے والے شکاری کا اعلان
افریقہ کے جنگلات میں مہمانوں کے لیے زرافہ کو ذبح کرنے والے سعودی شکاری نے خود پر تنقید کرنے والوں کو جوابی وضاحت پیش کی ہے۔
"العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو موصول ہونے والی خصوصی وڈیو میں راشد الہاجری نے واضح کیا کہ شکار کے لیے ان کا جانا مکمل طور پر قانون کے دائرے میں تھا اس لیے کہ انہوں نے تنزانیہ کی حکومت سے اجازت نامہ حاصل کیا تھا۔ اس سلسلے میں ایک خصوصی کمپنی نے راشد اور ان کے ساتھیوں کے لیے لوجسٹک سپورٹ اور تحفظ فراہم کیا تھا۔
الہاجری نے زور دیا کہ وہ اپنے مخالفین کی آراء کا احترام کرتے ہیں جن کو زرافے کے ذبح کیے جانے پر تکلیف پہنچی۔ الہاجری نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ تنقید کرنے والوں میں اکثریت درحقیقت "سبزی خور" ہے جو بنیادی طور پر گوشت نہیں کھاتے۔
الہاجری نے آنے والے دنوں میں مزید حیران کن انکشافات کا وعدہ بھی کیا۔ ان کا اشارہ چھوٹے ہاتھی کے ذبح کرنے کے ارادے کی جانب تھا جس کے گوشت کا ذائقہ چکھنے کی تمنا وہ طویل عرصے سے اپنے دل میں رکھے ہوئے ہیں۔
الہاجری نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ اپنے سابقہ انٹرویو میں کہا تھا کہ ان کا آئندہ ہدف "چھوٹا ہاتھی" ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے ساتھ حالیہ گفتگو میں الہاجری نے کہا کہ "ہم نے زرافہ کو ذبح کیا تھا اور اس کے گوشت میں سے خود کھایا اور ضرورت مندوں کو تقسیم بھی کیا۔ ان شاء اللہ عنقریب نئی چیزیں سامنے آئیں گی"۔
شکار کے شوق کے عاشق اور جنگل میں پرندوں اور پالتو جانوروں کے گوشت کے دیوانے راشد الہاجری تمام لوگوں کو بنا کسی ہچکچاہٹ زرافہ کا گوشت کھانے کا مشورہ دیتے ہیں۔ وہ مقامی ریستورانوں سے زرافہ کا گوشت فراہم کرنے کا مطالبہ بھی کرچکے ہیں۔ اس لیے کہ سعودی شکاری کے بقول زرافہ کا گوشت بکروں اور اونٹوں کے گوشت سے کہیں زیادہ لذیذ ہوتا ہے۔