.

موصل : العربیہ کی بعشیقہ کے معرکے کی تیاری پر نظر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

پیشمرگہ فورسز کی جانب سے موصل کے نواحی قصبے بعشیقہ کا محاصرہ جاری ہے۔ یہ محاصرہ قصبے کو داعش تنظیم سے آزاد کرنے کی تیاری کے سلسلے میں کیا گیا ہے۔ العربیہ نیوز چینل نے فرنٹ لائن پر کرد فورسز کی تیاری اور آئندہ دنوں میں متوقع حملے کی کارروائی کو درپیش خطرات کو اپنے کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کیا۔

بعشیقہ قصبہ جو اس وقت تمام محوروں سے محصور ہے عسکری طور پر اس کا سقوط ہو چکا ہے۔ مغربی محاذ پر پشمرگہ کے ذرائع کے مطابق اس وقت قصبے میں داعش کے 150 جنگجو موجود ہیں۔

بعشیقہ کے مغربی محاذ پر پیشمرگہ فورس کی ٹکڑی کے ذ مے دار بہرام عریف یاسین کا کہنا ہے کہ داعش تنظیم اس وقت کار بم دھماکوں ، خودکش حملوں اور دھماکا خیز آلات نصب کرنے کے درپے ہے جس کے سبب پیشمرگہ کی حرکت دھیمی ہو گئی ہے تاکہ جانی نقصان سے بچ کر تنظیم کے ارکان کو جلد از جلد نکالا جاسکے۔

داعش تنظیم علاقے میں اپنے محاصرے کو توڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے وہ مارٹر گولوں داغنے کے ساتھ ساتھ رات کے وقت پیشمرگہ پر حملے بھی کر رہی ہے۔

بعشیقہ کے جنوب مغرب میں العربیہ کے نمائندے کو اتفاقی طور پر ایک جرمن شہری سائیکو زیولڈ مل گیا جو رضاکارانہ طور پر دو برس سے پیشمرگہ کی صفوں میں لڑ رہا ہے۔ اس نے بتایا کہ "میں نے جب 2014 میں دیکھا کہ یہ لوگ عورتوں ، بچوں ، یزیدیوں اور کردوں کے ساتھ کیا کر رہے ہیں تو میں نے ان کی مدد کا فیصلہ کیا اور 3 روز کے اندر میں یہاں موجود تھا۔ میں یہاں دو برس سے ہوں اور پیشمرگہ فورسز کو تربیت اور ہدایات فراہم کر رہا ہوں کیوں کہ یہ لوگ احترام کے مستحق ہیں"۔

سائیکو نے بتایا کہ پیشمرگہ فورسز کی صفوں میں سیکڑوں غیرملکی موجود ہیں۔ اسے توقع ہے کہ بعشیقہ کا معرکہ آئندہ چند روز میں اپنے اختتام کو پہنچ جائے گا۔

بعشیقہ اور بعزان کے علاقوں کو داعش تنظیم سے آزاد کرانے کے بعد موصل میں پیشمرگہ کا مشن ختم ہوجائے گا۔ اس کے بعد پیشمرگہ کی ذمے داری صرف ان علاقوں کی حفاظت ہوگی جو انہوں نے داعش کی فرنٹ لائن سے آزاد کرائے ہیں۔