.

حلب میں پاسداران انقلاب کے ’ہیڈ کوارٹر‘ کا انکشاف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی اپوزیشن نے انکشاف کیا ہے کہ ایران کی طاقت ور فوج پاسداران انقلاب نے شام کے شہر حلب کے جنوب مشرق میں ایک سرکاری عمارت کو فوجی اڈے میں تبدیل کر رکھا ہے۔ اس عمارت میں ایران فوج کا ایک کنٹرول روم قائم ہے جہاں سے شہر میں شہریوں کے قتل عام کے لیے ہدایات جاری کی جاتی ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق حلب میں ایرانی فوجی اڈے کا انکشاف اپوزیشن کی قومی مزاحمتی کونسل کے زیرانتظام انسداد دہشت گرد سیکیورٹی کمیٹی کی جانب سے کیا گیا ہے۔ انسداد دہشت گردی کمیٹی کی طرف سے جاری کردہ ایک رپورٹ کی تفصیلات "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بھی موصول ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ایران حلب میں فوجی اڈے کو بشار الاسد کے دفاع کے لیے آپریشنل کارروائیوں کے لیے استعمال کررہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایرانی فوج کا حلب میں فوجی اڈا اور جنگجوؤں کی شام منتقلی اس بات کا بین ثبوت ہے کہ تہران سرکار عالمی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی سنگین خلاف ورزیوں کی مرتکب ہو رہی ہے۔

ایرانی اپوزیشن نے باوثوق ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ جنوب مشرقی حلب میں واقع ’البحوث‘ بلڈنگ کو ایرانی فوج کے مقامی ہیڈ کوارٹر کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ اس ہیڈ کوارٹر کی نگرانی پاسداران انقلاب کے جنرل سدی جواد غفاری کررہے ہیں۔ وہ پاسداران انقلاب میں بریگیڈیئر جنرل کے عہدے پر فائز ہیں اور ان کی نگرانی میں ایرانی فوجی اور جنگجو حلب میں فوجی کارروائیوں میں حصہ لیتے ہیں۔

واضح رہے کہ جنرل غفاری اس سے قبل عراق۔ ایران جنگ میں بھی کئی سال تک خدمات انجام دے چکے ہیں۔ وہ گذشتہ تین سال سے شمالی شام اور حلب میں بشارالاسد کے دفاع میں ایرانی فوج اور سول جنگجوؤں کی کمان کررہے ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ جنرل غفاری صدر بشارالاسد سے بھی ملاقاتیں کرتے رہتے ہیں۔ ایک ملاقات میں جنرل غفاری کے ہمراہ فیلق القدس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی بھی موجود تھے۔

ایرانی ہیڈ کوارٹر کا محل وقوع

شام میں ایرانی فوج کا مرکزی ہیڈ کوارٹر حلب شہر کے جنوب مشرقی سمت میں 30 کلو میٹر اور السفیرہ شہر سے 5 کلو میٹر کی مسافت پر واقع ہے۔ یہ ہیڈ کوارٹر ’البحوث‘ نامی ایک عمارت میں قائم ہے جسے ایرانی فوج نے ’سیدہ الرقیہ‘ کا نام دے رکھا ہے۔ یہ عمارت کھارے پانی کے بحیرہ جبول کے قریب ہے۔ ماضی میں یہ عمارت کیمیائی مواد، آتشیں اسلحہ اور وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے میزائلوں کی تیاری کے لیے استعمال کی جاتی رہی ہے۔

اپوزیشن کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ حلب میں قائم ایرانی فوج کے ہیڈ کوارٹر کے دو حصے ہیں۔ ایک حصہ سیکیورٹی حکام کے افسران کے لیے اور دوسرا عام اہلکاروں کے لیے مختص ہے۔ اس میں حزب اللہ کے اہم کمانڈر بھی آتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ اس مرکز کو آپریشنل کارروائیوں کے لیے منصوبہ بندی کا مرکز بھی قرار دیا جاتا ہے۔

عمارت کے دوسرے حصے میں ایرانی فوج کے ساتھ شامی فوج کے افسران اور فوجی بھی موجود ہیں۔ یہاں سے ایرانی اور شامی فوجی افسران جنگی کارروائیوں کے لیے تیاری کرتے، احکامات جاری کرتے اور آپریشن کو کنٹرول کرتے ہیں۔ اس میں ایک اہم مرکز’صابرین‘ ملیشیا کا بھی موجود ہے۔

اس عمارت سے 500 گز کے فاصلے پر ’’فاطمیون‘‘ ملیشیا کا مرکز قائم ہے۔ فاطمیون بریگیڈ افغان شیعہ جنگجوؤں پر مشتمل ایک اجرتی قاتل گروپ ہے جس کی سربراہی پاسداران انقلاب کے سابق جنرل امیر بور کررہے ہیں۔

میزائل فیکٹری

گذشتہ نومبر میں ایرانی مسلح افواج کے سربراہ جنرل محمد باقری نے انکشاف کیا تھا کہ حلب میں ایران کا ایک میزائل کار خانہ بھی موجود ہے۔ یہ کارخانہ ’البحوث‘ بلڈنگ کے قریب اور السفیرہ شہر کے جنوب میں واقع ہے۔ ایران ماضی میں اس جگہ میزائل تیار کرنے کے ساتھ ساتھ دیگر مہلک ہتھیار بھی تیار کرتا رہا ہے۔

ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے عسکری مشیر جنرل ریٹائرڈ یحییٰ رحیم صفوی نے 22 ستمبر 2016ء کو ایک بیان میں اعتراف کیا تھا کہ حلب میں شامی اپوزیشن کے ساتھ جاری لڑائی میں ایران کلیدی کردار ادا کرر ہا ہے۔