.

یمن : باغی ملیشیاؤں کے 16 جنگجو ہلاک ، تعز میں نئے علاقے آزاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے صوبے تعز میں یمنی فوج اور عوامی مزاحمت کاروں نے مقبنہ اور جبلِ حبشی کے محاذوں پر بڑی پیش قدمی کی ہے۔ اس دوران حوثی اور معزول صالح کی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر اتحادی طیاروں کی بم باری سے کم از کم 16 جنگجو مارے گئے۔ صعدہ صوبے میں علب کے محاذ پر بھی شدید لڑائی میں باغیوں کو بھاری جانی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔

تعز میں یمنی فوج کے ترجمان کے مطابق سرکاری فوج نے جبلِ منعم ، التبہ السوداء اور شرف العینین کے علاقوں میں ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر حملے کیے۔ اس دوران شدید لڑائی کے بعد یمنی فوج المنعم کے اطراف کے علاقے تک پیش قدمی کرنے میں کامیاب ہو گئی اور الجبیریہ ، الصفراء ، الصراہم ، وہر ، القحفہ اور السد کو آزاد کرا لیا گیا جب کہ جھڑپوں کا سلسلہ جاری ہے۔

ادھر مقبنہ کے محاذ پر فوجی ترجمان کا کہنا ہے کہ سرکاری فوج نے مسلسل دوسرے روز بھی ملیشیاؤں کے ٹھکانوں پر حملے جاری رکھے اور دو دیہاتوں البرکنہ اور دار قاسم کو آزاد کرانے میں کامیاب ہو گئی۔

فوجی ترجمان کے مطابق اس دوران حوثی ملیشیاؤں کے 16 سے زیادہ ارکان ہلاک اور متعدد زخمی ہوئے جب کہ ایک ہیمر فوجی گاڑی اور ایک ٹینک تباہ ہو گیا۔

ادھر صعدہ صوبے میں علب کے محاذ پر یمنی فوج کے ساتھ جھڑپوں میں حوثیوں کا کمانڈر ابوطه الخولانی اپنے 41 جنگجوؤں کے ہمراہ مارا گیا۔ اس دوران سرکاری فوج کو اتحادی طیاروں کی معاونت بھی حاصل رہی۔

عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ صعدہ اور حجہ صوبوں میں مختلف سرحدی علاقوں میں گھمسان کی جھڑپیں ہوئیں۔ اس دوران یمنی فوج نے اتحادی طیاروں کی معاونت سے البقع ، باقم اور حرض میدی کے محاذوں پر چھپے ہوئے باغیوں کو شدید بم باری اور گولہ باری کا نشانہ بنایا گیا۔

اس کے علاوہ عرب اتحادی طیاروں نے صعدہ صوبے کے ضلع باقم کے علاوہ الظاہر اور شدا کے علاقوں اور حجہ صوبے میں حرض کے علاقے پر درجنوں حملے کیے۔