باب المندب میں حوثیوں کی سمندری بارودی سرنگوں سے متعلق امریکی انتباہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

امریکا میں "آفس آف نیول انٹیلی جنس" ONI نے تجارتی بحری جہازوں کو آبنائے باب المندب میں حوثی اور صالح ملیشیاؤں کی جانب سے نصب کی گئی بارودی سرنگوں سے خبردار کیا ہے۔ یمنی باغیوں نے مذکورہ سمندری بارودی سرنگیں یمنی بندرگاہ المخا کے نزدیک بچھائی ہیں۔

امریکی آفس کی جانب سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ضرورت کے تحت امریکی بحریہ سمندری جہازوں کی آمد و رفت کی آزادی کے تحفظ کے لیے کی جانے والی کسی بھی کوشش میں قائدانہ کردار ادا کرے گی۔

آبنائے باب المندب جس کی چوڑائی 25 کلو میٹر تک پہنچی ہوئی ہے.. عالمی جہاز رانی کے واسطے بڑی اہمیت کی حامل ہے۔ اس کے ذریعے تجارتی جہاز خلیجِ عدن سے بحر احمر جاتے ہیں اور پھر نہر سوئس اور بحر روم منتقل ہوتے ہیں۔

یہ مشرق وسطی اور دیگر علاقوں میں تیل کی منتقلی کے واسطے گنجان گذرگاہوں میں سے ہے۔ روزانہ 60 سے زیادہ تجارتی جہاز اس کو عبور کرتے ہیں جب کہ اس کے راستے یومیہ 33 لاکھ بیرل خام تیل منتقل ہوتا ہے۔

امریکی انتباہ میں اس جانب بھی اشارہ کیا گیا ہے کہ اس طرح کی آبی گذرگاہ کی بندش کا نتیجہ توانائی کے مجموعی اخراجات اور عالمی منڈی میں تیل کی قیمتوں میں بڑے اضافے کی صورت میں سامنے آئے گا۔

یمنی باغی ملیشیاؤں نے گزشتہ ماہ آبنائے باب المندب میں سعودی جنگی کشتی پر حملہ کیا تھا اور اس سے قبل متحدہ عرب امارات کے ایک امدادی جہاز کو نشانہ بنایا۔

علاوہ ازیں اکتوبر 2016 میں امریکی بحریہ کے گشتی جہازوں کو بھی نشانہ بنایا گیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں