شام میں قتل عام کے بعد عراقی شیعہ تنظیم وادی گولان ملیشیا کا اعلان
ایران نواز عراقی شیعہ ملیشیا ’حرکۃ النجباء‘ نے شام میں صدر بشار الاسد کے دفاع میں لڑتے ہوئے نہتے شہریوں کے قتل عام کے بعد اب مقبوضہ وادی گولان کو آزاد کرانے کی آڑ میں ایک نئی تنظیم قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تحریک النجباء کے ترجمان ھاشم الموسوی نے تہران میں پریس کانفرنس سے خطاب میں بتایا کہ تنظیم نے اسرائیل کے زیرقبضہ وادی گولان کو آزاد کرانے کے لیے ’تنظیم آزادی گولان‘ کے نام سے ایک نئی تنظیم قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی خبر رساں ادارے’تسنیم‘ کے مطابق ھاشم الموسوی نے کہا کہ آج ہم یہاں پر ایک نئی تنظیم کے قیام کی تشکیل کا اعلان کررہے ہیں۔ اسے ’آزادی وادی گولان بریگیڈ‘ کا نام دیا گیا ہے۔
النجباء ملیشیا کے ترجمان نے کہا کہ ان کی تنظیم نے شمالی شام کے شہر حلب کو باغیوں سے آزاد کرانے میں بشار الاسد کی وفادار فوج کی بھرپور مدد کی ہے۔ مگر وہ یہ بات بھول گئے حلب میں شہریوں کے وحشیانہ قتل عام اور مقامی شہری آبادی کو جبرا بے دخل کرنے کی جو بدترین مثالیں قائم کی گئیں ان کی دنیا بھر میں مذمت جاری ہے۔
ھاشم الموسوی نے کہا کہ ’تحریر جولان‘ [تحریک آزادی وادی گولان] نامی تنظیم اسپیشل فورس کے طور پر کام کرے گی تاہم یہ واضح نہیں کیا کہ آیا وہ براہ راست النجباء ملیشیا کے ماتحت ہوگی یا نہیں۔