.

شام میں حزب اللہ کے جدید ترین اسلحے کو نشانہ بنایا : نیتن یاہو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتنیاہو کا کہنا ہے کہ شام میں اسرائیلی فضائیہ کے حملوں میں لبنانی ملیشیا حزب اللہ کے جدید ترین اسلحے کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ تل ابیب ان ہتھیاروں کی ہر گز اجازت نہیں دے گا اور اسے نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گا۔

نیتنیاہو نے واضح کیا کہ " ہماری پالیسی میں بڑا تسلسل ہے۔ جب بھی ہمیں حزب اللہ کو جدید ترین اسلحہ منتقل کرنے کی کوششیں کے بارے میں معلوم ہوگا تو اہم انٹیلی جنس رپورٹوں اور اپنی عملی استعداد کی روشنی میں اس کو ناکام بنانے کے اقدامات کریں گے۔ ماضی میں بھی ہم نے ایسا کیا اور آئندہ بھی ایسا کریں گے۔ سب لوگوں کو چاہیے کہ اسے پیشِ نظر رکھیں"۔

اُدھر روس نے اسرائیلی حملوں پر ردّعمل کے طور پر ماسکو میں اسرائیلی سفیر گیری کورین کو بُلا کر اُن سے اِن حملوں کے مقاصد کی وضاحت طلب کی ہے۔

مبصرین کے نزدیک اسرائیلی سفیر کو طلب کر کے روس یہ پیغام دینا چاہتا ہے کہ شام میں یا کم از کم بشار حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں اُس کی ہدایات کا رسوخ ہے۔ مبصرین کا یہ بھی خیال ہے کہ اس بات سے قطع نظر کہ اسرائیل نے اپنے کسی بھی طیارے کے گرنے یا نقصان سے دوچار ہونے کی تردید کی ہے.. بشار حکومت کا کئی برسوں میں پہلی مرتبہ طیارہ شکن میزائلوں کے ذریعے جوابی کارروائی کرنا اس کے روسی حلیف کی جانب سے تحفظ کے احساس کا مظہر ہو سکتا ہے۔