یمن کی الحدیدہ بندرگاہ باغیوں سے چھڑانے کے آپریشن کی تیاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

یمن کی آئینی حکومت اور باغیوں کے خلاف سرگرم عرب اتحاد نے ملک کی اہم ترین الحدیدہ بندرگاہ باغیوں سے واپس لینے کے لیے نئے فوجی آپریشن کی منصوبہ بندی کا اعلان کیا ہے۔ دوسری جانب اس اعلان کے سامنے آتے ہی باغیوں میں خوف وہراس کی لہر دوڑ گئی ہے اور انہوں نے آپریشن روکنے کے لیے اپنے حامی ممالک کے ذریعے ’لابنگ‘ بھی شروع کردی ہے۔

’العربیہ‘ نیوزچینل نے اپنے ذریعے کے حوالے سے بتایا ہے کہ الحدیدہ بندرگاہ میں فوجی کارروائی کے اعلان کے بعد سلامتی کونسل میں بعض ممالک نے اس کارروائی کو روکنے کے لیے کوششیں شروع کردی ہیں۔ باغیوں کی حامی بعض قوتوں نے سلامتی کونسل کو الحدیدہ بندرگاہ میں میں آپریشن رکوانے کے لیے مداخلت کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

ادھر العربیہ کے ذرائع کے مطابق الحدیدہ بندرگاہ کو باغیوں سے چھڑانے کے لیے عرب اتحادی فوج اور یمن کی آئینی فورسز کسی بھی وقت کارروائی کا آغاز کر سکتی ہیں۔

خیال رہے کہ الحدیدہ بندرگاہ کو یمن میں ایران نواز حوثی باغیوں کے بیرون ملک سے ملنے والی امداد کا سب سے اہم راستہ قرار دیا جا رہا ہے۔ یمنی باغی اس بندرگاہ تک پہنچنے والے امدادی سامان کی لوٹ مار کے ساتھ ساتھ اسلحہ کے حصول کی بھی کوشش کرتے ہیں۔ ایک تازہ رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ الحدیدہ بندرگاہ بیرون ملک بالخصوص ایران سے ملنے والے ہتھیاروں کا اہم ترین راستہ ہے۔ اس کی بندش سے باغیوں کی اہم ترین دفاعی لائن متاثر ہونے کا اندیشہ ہے۔

الحدیدہ اور الصلیف بندرگاہیں دارالحکومت صنعاء اور دوسرے علاقوں کے لیے سامان کی آمد وترسیل کا اہم ترین ذریعہ ہیں۔ مرکزی بنک کے عدن منتقل ہونے کے بعد یمنی باغی ان بندرگاہوں کو اپنی مالی ضروریات پوری کرنے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں