ادلب میں کیمیائی حملہ، بشارالاسد کی حمایت جاری رہے گی: روس

سلامتی کونسل میں مجوزہ قرارداد قابل قبول نہیں ،اس سے مزید عدم استحکام پیدا ہوگا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

روسی حکومت کے ترجمان دمتری پیسکوف نے شام کے شمال مغربی صوبے ادلب میں تباہ کن کیمیائی حملے کے باوجود شامی صدر بشارالاسد اور ان کی حکومت کی حمایت میں فوجی کارروائیاں جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے۔

ترجمان نے کہا ہے کہ روس اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں یہ موقف اختیار کرے گا کہ یہ شامی حزب اختلاف اس کیمیائی حملے کی ذمے دار ہے۔ مسٹر پیسکوف کا کہنا تھا کہ ’’روس کا اسد رجیم کے بارے میں موقف بدستور غیر متبدل رہے گا‘‘۔

ماسکو میں روسی وزارت خارجہ کے ترجمان نے بھی ایک بیان میں کہا ہے کہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں پیش کردہ مجوزہ قرارداد ان کے لیے ناقابل قبول ہے کیونکہ یہ غلط معلومات پر مبنی ہے اورا س سے خطے میں مزید عدم استحکام ہی پیدا ہوگا۔

قبل ازیں روس کی وزارت دفاع نے شامی اپوزیشن کو کیمیائی حملے کا مورد الزام ٹھہرایا تھا۔اس نے ایک بیان میں کہا تھا کہ صوبہ ادلب کے قصبے خان شیخون میں حزب اختلاف کے کیمیائی ہتھیاروں کے ایک گودام پر شامی طیارے کی بمباری کے بعد زہریلی گیس کا اخراج ہوا تھا۔اس زہریلی گیس کے نتیجے میں 20 بچوں سمیت 72 افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

دوسری جانب ترکی کی وزارت خارجہ نے ادلب میں اس کیمیائی حملے کے بعد روس اور ایران کو باور کرایا ہے کہ وہ شام میں جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کریں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں