روس کی جانب سے مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات پر تنقید
روسی وزیر خارجہ نے شام میں مبینہ کیمیائی حملے کی تحقیقات کے لئے ماہرین کو شام نہ بھیجنے پر کیمیائی ہتھیاروں کے نگران عالمی ادارے پر تنقید کی ہے۔
روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے ماسکو میں شام اور ایران کے ہم منصبوں کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس میں بات کرتے ہوئے کہا کہ "ہم فاصلے پر بیٹھے ماہرین کی جانب سے 'تجزیہ' کو ناقابل قبول سمجھتے ہیں۔"
لاوروف کا کہنا تھا کہ "بشار الاسد کے مخالفین نے تنظیم برائے انسداد کیمیائی ہتھیار کو جائے حادثہ کا دورہ کرنے کی گارنٹی دی مگر ادارہ اپنے ماہرین بھیجنے کو تیار نہیں ہے۔
روسی وزیر کا کہنا تھا کہ "عالمی ادارہ ابھی تک یہی کہ رہا ہے کہ ماہرین کو بھیجنے کے لئے حالات سازگار نہیں ہیں مگر وہ ٹیم نہ بھیجنے کی کوئی دلیل نہیں دے سکے۔"
روس نے اس سے پہلے مغرب کی جانب سے بشار الاسد کی فوج پر کیمیائی حملے کرنے کے الزام کو مسترد کردیا تھا اور امریکا کی جانب سے شامی ہوائی اڈے پر کروز میزائل حملوں کی شدید مذمت کی تھی۔
عالمی ادارہ برائے انسداد کیمیائی ہتھیار کی جانب سے جمعرات کے روز جاری کردہ ایک بیان میں بتایا گیا کہ "مختلف ذرائع سے جمع کئے جانے والے نمونوں کا جائزہ لیا جا رہا تھا۔اور خان شیخون میں کیمیائی حملے کے الزامات میں صداقت پائی جاتی ہے۔
-
امریکا۔روس کے باہمی تعلقات بدترین دور سے گذر رہے ہیں: لاوروف
روسی وزیر خارجہ سرگی لاوروف نے اعتراف کیا ہے کہ ان کے ملک اور امریکا کے درمیان ...
بين الاقوامى -
روس مداخلت نہ کرتا تو دمشق کا 20،15 روز میں سقوط ہوجاتا: لاروف
روس اگر شام میں فوجی مداخلت نہ کرتا تو دمشق کا دو سے تین ہفتوں میں سقوط ہوجاتا اور ...
بين الاقوامى -
لاروف اور کیری کا شام میں امریکا،روس ممکنہ تعاون پر تبادلہ خیال
روسی وزیرخارجہ سرگئی لاروف اور ان کے امریکی ہم منصب جان کیری نے شام میں دہشت گرد ...
بين الاقوامى