.

’ایران اور حزب اللہ اسد رجیم کی درخواست پر شام میں لڑ رہے ہیں‘

بحران کے حل کے لیے ماسکو۔ ریاض اہم کردار ادا کرسکتے ہیں: لافروف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روسی وزیرخارجہ سیرگی لافروف نے کہا ہے کہ روس اور سعودی عرب خطے کے بحرانوں بالخصوص شام کے مسئلے کے حل کے لیے کلیدی کردار ادا کرسکتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ماسکو میں سعودی وزیرخارجہ عادل الجبیر کے ہمراہ ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے روسی وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ اس میں دو رائے نہیں کہ شام کے بحران کے حوالے سے ریاض اور ماسکو کے نقطہ نظر میں اختلاف موجود ہے مگر ہم مل کر مسئلے کا کوئی حل نکال سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ شام میں ایران اور حزب اللہ اسد رجیم کے مطالبے پر آئے ہیں۔

ایک سوال کے جواب میں لافروف نے کہا کہ روس حزب اللہ کو دہشت گرد تنظیم نہیں سمجھتا۔

انہوں نے کہا کہ مجھے اپنے دوست سعودی وزیرخارجہ کے موقف سے اتفاق ہے۔ شام کے بحران کے حل کے لیے اقوام متحدہ کی قرارداد 2254 پرعمل درآمد کو یقینی بنانے سے بحران حل کیا جاسکتا ہے۔

روسی وزیرخارجہ نے زور دیا کہ شام کے بحران کے حل کے لیے تمام نمائندہ قوتوں کو بات چیت پر آمادہ کیا جائے اور اس کے ساتھ ساتھ بیرونی طاقتیں اپنا سفارتی اور سیاسی کردار ادا کریں۔

انہوں نے کہا کہ خان شیخون میں کیمیائی حملے کی تحقیقات کے مطالبے سے انہیں سعودی عرب کے موقف سے اتفاق ہے۔ مگرانہوں نے اس بات پر حیرت کا اظہار کیا کہ اگر اسد رجیم نے کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا ہے تو اتنی جلد بازی میں اس کی تحقیقات کیسے ممکن ہیں۔ انہوں نے فرانس اور برطانیہ کی طرف سے کی گئی تحقیقات کو ’الزامات‘ قرار دیا۔ روسی وزیر کا کہنا تھا کہ خان شیخون میں معائنہ کاروں کوجانے سے کوئی نہیں روکتا۔

دونوں رہ نماؤں کے درمیان علاقائی مسائل، دہشت گردی اور داعش کے خلاف جنگ، روس اور خلیجی ممالک کے مابین مذاکرات کی بحالی اور دیگر باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔