’العربیہ‘ کو انٹرویو میں داعشی مفتی کے لرزہ خیز انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

دو سال سے عراقی فوج کی تحویل میں موجود شدت پسند گروپ ’داعش‘ کے سابق مفتی نے حال ہی میں ’العربیہ‘ نیوز چینل کو ایک انٹرویو دیا جس میں اس نے حیران کن انکشافات کیے ہیں۔

داعش کے سابق مفتی حسام ناجی سے گفتگو کا اہتمام بغداد میں العربیہ کے نامہ نگار ماجد حمید نے کیا ہے یہ انٹرویو آج جمعہ کی شام ٹی وی پر نشر کیا جائے گا۔

حسام ناجی نے انکشاف کیا کہ اس کا خاندانی پس منظر شیعہ مسلک سے وابستہ ہے تاہم اس نے لڑکپن میں اہل سنت مسلک اختیار کیا تھا۔ اسے داعشی خلیفہ ابو بکر البغدادی نے شام اور عراق کے علاقوں میں قائم کی گئی خود ساختہ خلافت میں مفتی کا عہدہ سونپ رکھا تھا۔

حسام ناجی نے بتایا کہ ابو بکر البغدادی کے ساتھ اس کی پہلی ملاقات سنہ 2004ء میں عراق میں قائم امریکا کی ’بوکا‘ جیل کے کیمپ 6 میں ہوئی۔ ان دنوں میں نے عربی زبان میں تازہ تازہ گریجوایشن کی تھی۔ میرا شرعی امور کا گہرا مطالعہ تھا اور میں جیل میں موجود قیدیوں کو درس بھی دیتا۔

اس دوران میں نے البغدادی کے معمولات کو غور سے دیکھا۔ وہ قیدیوں سے بہت کم ملتے۔ زیادہ نماز میں مصروف رہتے۔ اگر کسی سے بات چیت کرتے بھی توصرف عبادت کی تلقین کرتے۔ البغدادی تو 2004ء میں رہا کردیے تاہم حسام ناجی 2007ء تک جیل میں قید رہا۔

ایک سوال کے جواب میں حسام ناجی نے بتایا کہ جیل سے رہائی کے بعد میں نے ایک مقامی مسجد میں امامت اور خطابت شروع کردی۔ ایک روز البغدادی اور ایک دوسرے جنگجو کمانڈر مناف الراوی اس کے پاس آئے۔ انہوں نے اس کی امامت میں نماز بھی ادا کی۔ نماز سے فراغت کے بعد البغدادی نے کہا کہ آپ میرے ساتھ کام کریں۔ میں اس وقت خود کو ذہنی طور پر اسلامی شرعی تعلیم کے حصول کے لیے تیار کررہا تھا۔ تاہم البغدادی نے اصرار کیا اور کہا کہ اس کے پاس کئی اور بھی منصوبے ہیں۔

اب کی بار اس کے سامنے جیل والا البغدادی نہیں بلکہ بالکل ایک بدلا ہوا شخص موجود تھا۔ اب اس کی شخصیت میں شدت پسندی کا عنصر غالب تھا۔ مجھے جنگجوؤں کے ایک مرکز میں لایا گیا۔ بعد ازاں تنظیم میں جج کا نائب مقرر کیا گیا۔ میرے اور داعشی قاضی کے درمیان سب سے زیادہ اختلاف ’جزیہ‘ پر ہوتا۔

میں اس بات پر زور دیتا کہ اقلیتوں سے جمع کی گئی جزیہ کی رقم سے ان کے جان ومال اور عزت وآبرو کی حفاظت کی جانی چاہیے۔ اس کے علاوہ خراج اور ٹیکسوں اور لوگوں کو لونڈی غلام بنائے جانے پر بھی تنازع جاری رہتا۔

حسام ناجی نے بتایا کہ داعش اور القاعدہ کی بیشتر قیادت مذہبی مسائل کی گہرائی سے واقف نہیں بلکہ وہ صرف طائرانہ نظر رکھتے ہیں۔ اردنی جنگجو اور القاعدہ کے مناظر ابو محمد المقدسی سے بھی اختلافات رہے۔

ایک سوال کے جواب میں حسام ناجی نے دعویٰ کیا کہ القاعدہ کے موجودہ سربراہ ایمن الظواہری کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ داعش کے القاعدہ سے الگ ہونے کی ایک وجہ الظواہری کی گرفتاری بھی ہے۔

ایران کے خلاف محاذ نہ کھولنے کی داعش کی پالیسی پر بات کرتے ہوئے سابق داعشی مفتی نے کہا کہ ان کی تنظیم ایک ہی وقت میں کئی اطراف میں محاذ کھولنے کے لیے تیار نہیں۔ داعش ایران کے ساتھ فی الوقت کشیدگی نہیں چاہتی۔ داعش کے سابق مفتی نے العربیہ سے بات کرتے ہوئے اپنی ماضی کی کئی غلطیوں کا بھی اعتراف کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں