سعودی عرب کے شمال میں حضرت عمر کی تعمیر کردہ قدیم مسجد
سعودی عرب کے شمال مغربی صوبے الجوف میں واقع "مسجدِ عمر" اسلامی تاریخ کی ایک اہم ترین مسجد ہونے کے ساتھ ساتھ منصوبہ بندی اور تعمیر کے لحاظ سے اسلام کے ابتدائی دور میں پھیلے طرزِ تعمیر کی نمائندگی کرتی ہے۔
اسلامی طرز تعمیر کے ماہرین کے نزدیک مسجد عمر اپنے ڈیزائن میں مدینہ منورہ کی مسجد نبوی سے بڑی حد تک مشابہت رکھتی ہے۔ تعمیراتی طرز کے آج تک برقرار رہنے کی وجہ سے اس معروف مسجد کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔
یہ مسجد جلیل القدر صحابی اور خلیفہ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے منسوب ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اس مسجد کو 16 ہجری میں تعمیر کیا گیا جب مسلمانوں کے ہاتھوں بیت المقدس کی فتح کے بعد خلیفہ دوم مدینہ منورہ سے بیت المقدس جاتے ہوئے یہاں سے گزرے تھے۔
مسجدِ عمر کو مٹی کے پتھروں کا استعمال کرتے ہوئے مستطیل صورت میں بنایا گیا ہے۔ مغرب سے مشرق کی جانب اس کی لمبائی 33 میٹر اور چوڑائی 18 میٹر ہے۔
مسجدِ عمر قبلے کی جانب گیلری ، محراب ، منبر ، مسجد کے صحن کے علاوہ جائے نماز پر مشتمل ہے۔ مسجد کا منفرد صورت کا 13 میٹر بلند مینار اس کی شہرت میں اہم کردار کا حامل ہے۔
یہ مینار اندر سے چار منزلوں پر تقسیم ہے اور ہر منزل پر کھڑکیاں موجود ہیں۔ علاوہ ازیں عقبی جانب سے مسجد کے ساتھ ایک جائے نماز ہے جو بنیادی مسجد کے نیچے واقع ہے۔ یہاں پر شدید سردی کے موسم میں نماز ادا کی جاتی ہے۔