صدر ٹرمپ کی درخواست پر اسرائیل کے فلسطینیوں کی سہولت کے لیے اقدامات
اسرائیلی وزراء نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے سے قبل ان کی درخواست پر فلسطینیوں کی معیشت کو بہتر بنانے اور انھیں سرحدی گذرگاہوں پر سہولتیں مہیا کرنے کے لیے مختلف اقدامات کی منظوری دےدی ہے۔
ایک اسرائیلی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر فرانسیسی خبررساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے اسرائیلی حکومت سے فلسطینی صدر محمود عباس سے ملاقات سے قبل اعتماد کی فضا بحال کرنے کے لیے اقدامات کا کہا تھا۔
اس عہدہ دار کے بہ قول ’’صدر ٹرمپ کے دورے پر خیر سگالی کے طور پر یہ اقدامات کیے جارہے ہیں اور ان سے اسرائیل کے مفادات کو کوئی نقصان نہیں پہنچے گا‘‘۔اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو کی سکیورٹی کابینہ نے اتوار کی شب دریائے اردن کے مغربی کنارے کے جنوبی سرے پر فلسطینی صنعتی زون کو توسیع دینے کی منظوری دی تھی۔
اس کے علاوہ اسرائیل کی ریلوے سروسز کو مغربی کنارے کے شہر جنین تک توسیع دینے کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔اسرائیلی وزراء نے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمال میں واقع ایک مصروف گذرگاہ شعار عفریم سےگزرنے کے طریق کار کو بہتر بنانے کی منظوری دی ہے۔اس گذرگاہ سے روزانہ سیکڑوں فلسطینی مزدور اسرائیلی علاقے میں داخل ہوتے ہیں اور وہاں دن بھر کام کے بعد شام کو واپس آجاتے ہیں۔
اسرائیلی عہدہ دار کا کہنا ہے کہ دریائے اردن پر مرکزی پُل پر سے گذر کر فلسطینی علاقے میں داخلے ہونے کے دورانیے کو بڑھا کر چوبیس گھنٹے کرد یا گیا ہے اور یہ راستہ پورا ہفتہ کھلا رہے گا۔
اسرائیل کے زیر قبضہ مغربی کنارے کے شہری علاقوں میں فلسطینیوں کی اراضی کے لیے بھی اصلاحات کی جائیں گی۔اسرائیلی اخبار ہارٹز نے ایک رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس اقدام کا مقصد ایسے علاقے میں فلسطینیوں کو ہزاروں مکانوں کی تعمیر کی اجازت دینا ہے جہاں وہ اپنی ہی ملکیتی اراضی پر مکانوں کی تعمیر کے لیے اسرائیلی حکام سے اجازت کے محتاج تھے۔
ہارٹز نے لکھا ہے کہ اتوار کی شب کابینہ کے اجلاس میں وزیر تعلیم نفتالی بینٹ اور نائب وزیر خارجہ ایلیت شیکڈ نے اس تعمیراتی منصوبے کی شدید مخالفت کی ہے۔
مذکورہ عہدہ دار کے بہ قول اسرائیل کی سکیورٹی کابینہ نے حزب اختلاف کی تنقید سے بچنے اور اپنے ووٹروں کا دل لبھانے کے لیے مغربی کنارے کے دور دراز علاقے میں رہنے والے یہودی آباد کاروں کے مکانوں کو قانونی شکل دینے کے لیے ایک کمیٹی کے قیام کی بھی منظوری دے دی ہے۔