’قطرکودہشت گردی کی حمایت پر مبنی پالیسی ترک کرنا ہوگی‘
برطانوی وزیراعظم کا ولی عہد کو فون، قطری بحران پر بات چیت
برطانوی وزیراعظم تھریسا مے نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قطر کو اپنے پڑوسی ملکوں کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا۔ دوحہ کی جانب سے دہشت گردی کی حمایت پر مبنی پالیسی کو کسی صورت میں قبول نہیں کیا جا سکتا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق برطانوی وزیراعظم نے ان خیالات کا اظہار سعودی عرب کے نو منتخب ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بن عبدالعزیز سے ٹیلیفون پر بات چیت میں کیا۔
تھریسا مے کاکہنا تھا کہ قطر کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے حوالے سے اپنا موقف واضح کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی سب کے لیے مشترکہ خطرہ ہے اور اس سے نمٹںے کے لیے مل کر کوششیں کرنا ہوں گی۔
انہوں نے دہشت گردی کی روک تھام کے حوالے سے پیش کردہ مطالبات پر قطر کو مزید 48 گھنٹے کی مہلت دیے جانے کا خیر مقدم کیا۔
دونوں رہ نماؤں کے درمیان ہونے والی ٹیلیفونک بات چیت میں دوطرفہ تعلقات کے فروغ ، قطری بحران اور خطے کے دیگر سلگتے مسائل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
-
قطر 20سال سے جاری پالیسیاں 20 گھنٹے میں تبدیل نہیں کرے گا: ضاحی خلفان
دبئی پولیس کے سابق سربراہ ضاحی خلفان نے کہا ہے کہ وہ خلیجی عرب ممالک کے قطر کے ...
بين الاقوامى -
قطر نے بائیکاٹ کرنے والے ممالک کے مطالبات کا جواب کویت کو پہنچا دیا
قطری وزیرخارجہ شیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی سوموار کے روز کویت پہنچے ہیں۔اطلاعات ...
مشرق وسطی -
قطر: عالمی تعمیراتی کمپنیوں کے ملک چھوڑنے کے ہنگامی پلان
قطر میں 2022 کے فٹ بال عالمی کپ کے لیے میدان تیار کرنے والی مغربی کمپنیوں نے دوحہ ...
مشرق وسطی