.

قطر میں فٹبال عالمی کپ کا انعقاد خطرے میں ہے : سابق برطانوی وزیر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ نیوز چینل کے مطابق برطانیہ کے سابق وزیر ثقافتJohn Whittingdale نے خبردار کیا ہے کہ قطر پر بدعنوانی کا الزام ثابت ہونے کی صورت میں 2022ء کے فٹبال عالمی کپ کی میزبانی دوحہ سے واپس لی جا سکتی ہے۔

برطانوی اخبار ٹیلی گراف نے ویٹنگڈیل کے حوالے سے بتایا ہے کہ اگر اس امر کی تصدیق ہو گئی کہ قطر نے عالمی کپ کی میزبانی میرٹ پر حاصل نہیں کی تو پھر میزبانی کا مقابلہ ایک مرتبہ پھر دُہرایا جائے گا۔

دوحہ کی جانب سے پانچ برس بعد عالمی کپ کی میزبانی کے لیے بھرپور تیاری جاری ہے تاہم ساتھ ہی اس کو بدعنوانی کے الزامات کا بھی سامنا ہے جو بین الاقوامی تحقیقات کے نتائج میں ثابت ہو گئے تو قطر اس سنہرے موقع سے محروم ہو سکتا ہے۔

برطانیہ میں قدامت پسند رکنِ پارلیمنٹ ویٹنگڈیل کے مطابق اس معاملے میں بدعنوانی روز بروز واضح ہوتی جا رہی ہے۔

برطانوی پارلیمنٹ میں ثقافت ، اطلاعات اور کھیلوں کی کمیٹی کے سربراہ ڈیمن کولن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر یہ ثابت ہو گیا کہ دوحہ نے عالمی کپ کی میزبانی حاصل کرنے کے لیے رشوت دی تو قطر کو عالمی کپ کی میزبانی کے حق سے ہاتھ دھونے پڑیں گے۔

واضح رہے کہ فرانسیسی تحقیق کاروں کی جانب سے سابق صدر نکولس سرکوزی کے خلاف الزامات کی تحقیق میں انکشاف ہوا کہ انہوں نے قطر سے مالی رقم وصول کی تھی تا کہ میزبانی کے حصول کے مقابلے میں یورپی ممالک کی سپورٹ حاصل ہو سکے۔ بد عنوانی کے الزام میں زیرِ حراست فیفا کے سابق سربراہ جوزف بلاٹر نے بھی اس کا ذکر کیا تھا۔