موصل کے مغرب میں امریکی اڈہ ، تہران اور دمشق کے درمیان راستہ خطرے میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں امریکی افواج نے موصل شہر کے مغرب میں سب سے بڑے فوجی اڈے کی تعمیر شروع کر دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد عراق اور شام کی سرحد کی نگرانی کرنا اور ایرانی پاسداران انقلاب اور تہران نواز ملیشیاؤں کا راستہ روکنا ہے۔ ایران پاسداران اور اس کی ملیشیائیں گزشتہ چند ماہ کے دوران علاقے میں دراندازی کر کے موصل کے راستے تہران اور دمشق کے درمیان زمینی راستہ کھولنے کے ایرانی منصوبے پر عمل پیرا ہیں۔

عربی روزنامے "الشرق الاوسط" کے مطابق یہ امریکی اڈہ نینوی صوبے میں دریائے دجلہ کے مغرب میں واقع گاؤں کہریز کے قریب زیر تعمیر ہے۔ اس کی ذمے داریوں میں تلعفر ضلعے اور موصل کے مغربی صحراء کو آزاد کرانے کے سلسلے میں امریکی اور عراقی افواج کے درمیان رابطہ کاری بھی شامل ہے۔

ادھر نینوی میں عرب قبائل نے صوبے میں امریکی افواج کی موجودگی کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان قبائل کے خیال میں اس طرح ایران نواز ملیشیاؤں کے ہاتھوں نینوی کے باسیوں کے خلاف غیر انسانی کارروائیوں کا سلسلہ موقوف ہو جائے گا۔

دوسری جانب نینوی کی صوبائی کونسل میں سکیورٹی اور دفاع کی کمیٹی کے رکن ہاشم البریفکانی کے نزدیک امریکا کی جانب سے اڈہ تعمیر کرنے کا اقدام ایرانی پاسداران انقلاب اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں کے ہاتھ کاٹ دے گا جو کئی ماہ سے عراق اور شام کے درمیان سرحدی علاقے میں گھس کر بیٹھے ہوئی ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں