یرغمال لبنانی فوجیوں کی رہائی کی خاطر داعش کے خلاف سیز فائر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

لبنانی فوج نے ملک کی مشرقی سرحد کے قریب شامی علاقے میں انتہا پسند تنظیم “داعش” کے خلاف اپنی عسکری مہم اتوار کے روز بند کرنے کا اعلان کیا ہے۔ فائر بندی کا مقصد ممکنہ طور پر داعش کے ہاتھوں دو ہزار چودہ سے یرغمال لبنانی فوجیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات کی راہ ہموار کرنا ہے۔

واضح رہے کہ لبنانی فوج نے ملک کے مشرقی علاقے راس بعلبک کے علاقے جرود اور القاع میں 19 اگست کو داعش کے خلاف مسلح کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

لبنانی فوج کی کمان نے ایک بیان میں اعلان کیا ہے کہ گرینچ کے معیاری وقت چار بجے بروز اتوار سے داعش کے خلاف کارروائی روک رہی ہے تاکہ نو فوجیوں کی رہائی سے متعلق مذاکرات کے آخری مرحلے کو انجام تک پہنچایا جا سکے جن کے بارے میں غالب گمان یہی ہے کہ انہیں داعش نے یرغمال بنا رکھا ہے۔

یرغمال لبنانی فوجی دراصل اس تیس رکنی گروپ کا حصہ ہیں جنہیں النصرہ فرنٹ اور داعش نے 2014 کو عرسال کے علاقے میں شدید لڑائی کے دوران یرغمال بنا لیا۔

تیس فوجیوں میں سے سولہ کو 2015ء میں رہا کرا لیا گیا تھا جبکہ النصرہ فرنٹ نے چار کو ہلاک کر دیا تھا۔ پانچواں فوجی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے ہلاک ہو گیا تھا۔

لبنانی فوج کی کارروائی کے ساتھ ساتھ شام میں سرگرم حزب اللہ ملیشیا نے القلمون الغربی کی جانب سے حملہ کیا۔ حزب اللہ کے عسکری میڈیا سیل نے تنظیم کی جانب سے داعش کے خلاف القلمون کے علاقے میں کی جانے والی فوجی کارروائی روکنے کا اعلان کیا ہے۔ اس اعلان پر مقامی وقت صبح سات بجے سے عمل درآمد ہونا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں