لبنان: احمد الاسیر سمیت کئی شدت پسندوں کو سزائے موت
فن کار فضل شاکر کو 15 سال قید با مشقت کی سزا
لبنان کی ایک فوجی عدالت نے شدت پسند مذہبی رہ نما احمد الاسیر کو فوج اور سیکیورٹی اداروں کے خلاف لڑنے کی پاداش میں سزائے موت سنائی ہے۔ عدالت نے ایک سابق موسیقار فضل شاکر کو احمد الاسیر کا ساتھ دینے کے جرم میں پندرہ سال قید بامشقت کی سزا اور بنیادی شہری حقوق سے محروم کرنے کا حکم دیا ہے۔
لبنانی ذرائع ابلاغ کے مطابق فوجی عدالت نے شدت پسند مذہبی رہ نما احمد الاسیر اور اس کے ایک بھائی امجد الاسیر کوبھی سزائے موت سنائی ہے تاہم امجد الاسیر مفرور ہے۔
’العربیہ‘ کے نامہ نگار کے مطابق عدالت نے ملزمان کو ’صیدا‘ کے علاقے عبرا میں فوج کے ساتھ تصادم کی راہ اختیار کرنے اور حملوں میں ایک درجن فوجیوں کو قتل کرنے سے سمیت متعدد الزامات عاید کیے گئے تھے۔
خیال رہے کہ لبنانی فوج نے الشیخ احمد الاسیر کو 2015ء کو بیروت کے ہوائی اڈے سے اس وقت حراست میں لیا تھا جب وہ پلاسٹک سرجری کرکے اپنا حلیہ تبدیل کرنے کے بعد جعلی پاسپورٹ مصر فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔
گرفتاری کے بعد احمد الاسیر کے خلاف جون 2013ء اور اس کے بعد صیدا کے علاقے میں فوج کے ساتھ لڑنے کے الزام کے تحت مقدمہ چلایا گیا۔ان پر الزام عاید کیا گیا تھا کہ انہوں نے مسجد بلال بن رباح پر فوج کے دھاوے کے وقت جوابی کارروائی میں بارہ فوجیوں کو ہلاک کردیا تھا۔ اس کے علاوہ احمد الاسیر اور اس کے ساتھی فوج پر حملوں پر اکسانے کی کوششوں میں ملوث رہے ہیں۔
عدالت نے گرفتار اور مفرور کئی دوسرے شدت پسندوں کو بھی موت اور قید بامشقت کی سزائیں سنائی ہیں۔ قید با مشقت کی سزا پانے والوں میں سابق فن کار فضل شاکر شامل ہیں۔ جب کہ احمد الاسیر کے ساتھ اس کے بھائی امجد الاسیر کو بھی سزائے موت سنائی گئی ہے۔
-
لبنانی فوج کی صیدا میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے فائرنگ
شیخ احمد الاسیر کے حامیوں اور فوج کے درمیان لڑائی کے بعد کشیدگی برقرار
مشرق وسطی -
لبنانی عالم دین نے مسجد کو عسکری تربیت گاہ بنا دیا
عبرا میں فوج کے کریک ڈاؤن کے بعد شیخ احمد الاسیر لاپتا
مشرق وسطی -
جدہ: سعودی ولی عہد سے لبنان کے مسیحی لیڈر سمیر جعجع کی ملاقات
سعودی عرب کے ولی عہد ، اول نائب وزیراعظم اور وزیر دفاع شہزادہ محمد بن سلمان ...
بين الاقوامى