اردن : دو عورتوں پر داعش کی بھرتی اور تشہیر کے الزام میں فردِ جُرم عاید
اردن میں ایک اسٹیٹ سکیورٹی عدالت نے دو عورتوں پر دہشت گرد تنظیم داعش کے لیے لوگوں کو بھرتی اور اس کی سرگرمیوں کی تشہیر کے الزام میں فردِ جُرم عاید کردی ہے۔
سرکاری استغاثہ نے ان دونوں عورتوں پر اردن میں داعش کے لیے ارکان بھرتی کرنے اور اس کی سرگرمیوں کی سوشل میڈیا پر تشہیر کا الزام عاید کیا تھا۔اردن کی سرکار ی خبررساں ایجنسی بطر ا کے مطابق ایک مدعا علیہا کے وکیل نے عدالت میں اپنی موکلہ کے خلاف عاید کردہ الزامات کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کا تو سوشل میڈیا ( فیس بُک) کا کوئی اکاؤنٹ ہی نہیں ہے۔
وکیل نے مزید کہا ہے کہ خاتون چار بچوں کی ماں ہے اور سب سے چھوٹے بچے کی عمر تین سال ہے۔عدالت میں ایک گواہ کو بھی پیش کیا گیا۔اس نے یہ دعویٰ کیاہے کہ اس کو سوشل نیٹ ورکنگ ایپلی کیشن وٹس ایپ کے ذریعے اگست میں ایک پیغام موصول ہوا تھا اور یہ پیغام پہلی مدعا علیہا کے فون نمبر سے بھیجا گیا تھا۔ اس نے مبینہ طور پر اس گواہ کو داعش کے لیے بھرتی کرنے کی کوشش کی تھی۔
بطرا نے یہ بھی اطلاع دی ہے کہ عدالت نے گذشتہ ہفتے دوسری مدعا علیہا کے خلاف دہشت گردتنظیم کے لیے بھرتی کرنے کا الزام واپس لے لیا تھا اور صرف داعش کی سرگرمیوں کو فروغ دینے کے الزام عاید کیا تھا۔ اب عدالت آیندہ بدھ کو اس مقدمے کی دوبارہ سماعت کرے گی۔