.

جنگ میں جھونکے گئے یمنی بچوں کی بحالی کا پہلا مرحلہ مکمل

شاہ سلمان ریلیف مرکز یمنی بچوں کی بحالی کی مساعی جاری

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں حوثی باغیوں اور مںحرف سابق صدر علی عبداللہ صالح کی وفادار ملیشیا کی جانب سے جنگ میں جھونکے گئے یمنی بچوں کی بحالی کا پہلا مرحلہ مکمل ہوگیا ہے۔

سعودی فرمانروا شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے نام سے قائم شاہ سلمان ریلیف سینٹر نے پہلے مرحلے میں شمال مشرقی یمن کی مآرب اور الجوف گورنریوں میں جنگ میں جھونکے گئے 40 بچوں کو بازیاب کرانے کے بعد ان کا تدریسی عمل بحال کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شاہ سلمان ریلیف سینٹر کے زیر اہتمام یمن کے معاشی طور پر کم زور طبقات کی معاونت کے تحت جنوب مغربی گورنری تعز، شمالی گورنری عمران اور دیگر علاقوں میں ریلیف اور بحالی کے دوسرے مرحلے کی تیاری مکمل کرلی گئی ہے۔

مآرب میں یمنی بچوں کی بحالی کے پہلے مرحلے کے موقع پر ایک پروقار عوامی تقریب کا اہتمام کیا گیا جس میں مآرب اور الجوف سے تعلق رکھنے والے 15 سال یا اس سے کم عمر کے چالیس بچوں کو شامل کیا گیا۔ یہ تمام بچے باغی حوثی گروپ اور علی صالح ملیشیا نے اپنے مذموم جنگی مقاصد کے لیے جنگ میں جھونک رکھے تھے۔

جنگ سے متاثرہ بچوں کی بحالی اور بازیابی کا کورس ایک غیر سرکاری یمنی این جی او کی مدد سے ایک ماہ تک جاری رہا۔ اس وران بچوں کی اسپورٹس، سماجی اور نفسیاتی بحالی کی کوششیں کی گئیں اور انہیں معاشرے میں کارآمد فرد بنانے کے لیے مختلف پروگرامات ترتیب دیے گئے۔ اس موقع پر بچوں اور ان کے والدین کے لیے آگہی کے حوالے سے کانفرنسوں اور لیکچرز کا بھی اہتمام کیا گیا۔

شاہ سلمان ریلیف سینٹر یمن کی دو گورنریوں میں بچوں کی بحالی کے پہلے مرحلے کی کامیاب تکمیل کے بعد دوسرے مرحلے کا آغاز کررہا ہے۔ دوسرے مرحلے میں تعز اور عمران گورنریوں میں بچوں کی بحالی کے پروگرامات شروع کیے جائیں گے۔

بحالی کے پروگرام کےدوران باغیوں کی جانب سے جنگ میں جھونکے گئے بچوں کو واپس قومی دھارے پر لانا، جنگ کی وجہ سے بچوں کی زندگیوں اور صحت پر مرتب ہونے والے منفی نفسیاتی اثرات کا خاتمہ، انہیں محفوظ اور پرامن زندگی گذارنے کے قابل بناتے ہوئے ان کے معاشی اور معاشری مسائل کے حل میں ان کی مدد کرنا شامل ہے۔