.

شام میں زہریلی گیس کے استعمال سے متعلق قرارداد روس نے ویٹو کردی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

روس نے منگل کے روز اقوام متحدہ میں ویٹو کا استعمال کرتے ہوئے اس قرارداد کو ناکام بنا دیا جس میں شام میں ہونے والے حملوں میں مبینہ کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال کی تفتیش کرنے والے معائنہ کاروں کی تعیناتی کی مدت میں توسیع کی تجویز دی گئی تھی۔

’اے ایف پی‘ کے مطابق روس نے اپنے حلیف بشار الاسد کی حمایت کرتے ہوئے سلامتی کونسل میں یہ نویں قرارداد ویٹو کی ہے۔

سلامتی کونسل میں ہونے والی رائے شماری میں 11 ملکوں نے مزید ایک سال کی توسیع کی حمایت کی، روس اور بولیویا نے اس اقدام کے خلاف ووٹ دیا، جب کہ چین اور قزاقستان ووٹنگ کے دوران غیر حاضر رہے۔

شام کے خلاف قرارداد ویٹو کیے جانے کے بعد اقوام متحدہ میں امریکا کی مستقل مندوبہ نیکی ہالے نے ماسکو کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ روس نے ایک بار پھر ڈکٹیٹر شپ اور دہشت گردں کی طرف داری کی ہے جو اس طرح کا مہلک اسلحہ استعمال کرتے ہیں۔

خیال کیا جاتا ہے کہ چھان بین کرنے والی ٹیم، جسے ’جوائنٹ انویسٹی گیٹو مکینزم‘ کا نام دیا گیا ہے، جمعرات کو اپنی رپورٹ کا اعلان کرے گی، جس میں چار اپریل کو جنوبی ادلب میں باغیوں کے زیر قبضہ خان شیخون قصبے میں ہونے والے اس حملے کے ذمے دار فریق کی نشاندہی کی جائے گی، جس حملے میں بیسیوں شہری ہلاک و زخمی ہوئے۔

تین روز بعد، امریکا نے شام کے فضائی اڈے پر کارروائی کی، جب امریکا، برطانیہ اور فرانس نے بشار الاسد کی حکومت پر الزام لگایا کہ اُس نے حملے میں زہریلی گیس استعمال کی تھی۔

اس سوال پر آیا سارین یا سارین جیسا مواد قابل اعتراض ہے، اور یہ کس نے استعمال کی، اس بات کی سرکاری تصدیق ہونا باقی ہے؛ اور توقع یہ ہے کہ مشترکہ تفتیشی ٹیم اس معاملے پر اپنی رپورٹ دے گی۔

یہ بات روس کے سیاسی مؤقف کے لیے پریشانی کا باعث ہوتی اگر یہ بات ثابت ہوجائے کہ شامی حکومت ہی اس حملے کی ذمے دار ہے، ناکہ، مثلاً داعش، ایسے میں جب روس صدر اسد کا شدید حامی ہے۔

شام تنازعے میں حکومت ہی ایک ایسا فریق ہے جس کے پاس فضائی صلاحیت موجود ہے۔ اس سے قبل روس نے کہا تھا کہ یہ گیس زمین پر موجود بم سے نکلی تھی، ناکہ فضا سے گرائی گئی تھی۔

اقوام متحدہ میں روس کے ایلچی، وسالی نبن زیا نے ابتدائی طور پر کمیٹی کی منگل کو جاری ہونے والی رپورٹ کے اجرا کو معطل کرنے کی تجویز پیش کی تھی، یہ مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہ عجلت میں کرائی جانے والی ووٹنگ روس کو پریشان کرنے کی ایک امریکی چال ہے۔