.

ترک سرحد پر واقع گزرگاہ سے انخلاء کے لیے کُرد فورسز کو چند گھنٹوں کی مہلت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں ایک سکیورٹی ذریعے نے بتایا ہے کہ عراقی فوج نے جمعے کے روز کرد فورسز کو "چند گھنٹوں" کی مہلت دی ہے تا کہ وہ ترکی کے ساتھ سرحد پر واقع اُس علاقے سے نکل جائیں جہاں سے تیل کی پائپ لائینیں گزر رہی ہیں۔ کردستان نے 2014 کے بعد اس علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔

ایک عراقی سکیورٹی ذمے دار نے فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ "ہم نے کرد فورسز کو فیش خابور کے علاقے سے نکلنے کے لیے چند گھنٹوں کی مہلت دی ہے"۔ ذمے دار کے مطابق اس وقت فائربندی کی صورت حال ہے تاہم وقتا فوقتا فائرنگ کے واقعات ہو رہے ہیں۔

اس سے قبل جمعرات کے روز کرد جنگجوؤں اور فیش خابور کی گزرگاہ کا رخ کرنے والی عراقی فورسز کے درمیان بھاری توپوں کے ساتھ گھمسان کی لڑائی ہوئی۔ عراقی فورسز کی کوشش ہے کہ ترکی کی جیہان بندرگاہ جانے والی تیل کی پائپ لائنوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے۔

فیش خابور کا علاقہ ترکی ، عراق اور شام کے سرحدی تکون پر واقع ہے اور کردوں کے لیے خاص طور پر یہ تزویراتی اہمیت کا حامل ہے۔

عراقی وزیراعظم حیدر العبادی نے عراقی کردستان کے حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تمام سرحدی گزرگاہوں اور ہوائی اڈوں کا کنٹرول وفاقی حکومت کے حوالے کر دیں۔ یہ بات جمعرات کی شام العبادی کی امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن کے ساتھ ٹیلیفونک گفتگو کے دوران سامنے آئی۔

دونوں شخصیات کے درمیان داعش تنظیم کے خلاف عسکری آپریشن کی پیش رفت اور کرکوک اور دیگر علاقوں میں عراقی فورسز کی از سر نو تعیناتی کے معاملات پر تبادلہ خیال ہوا۔

ادھر امریکی وزیر خارجہ ریکس ٹیلرسن نے باور کرایا کہ واشنگٹن عراق کی وحدت کو سپورٹ کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی حکام کے ساتھ عراقی کردستان کا تعاون وار عراقی آئین کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے بات چیت بہت اہمیت کی حامل ہے۔