قطر "داعش" کی عراق اور شام سے لیبیا کے جنوب میں منتقلی کے لیے کوشاں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

داعش تنظیم نے لیبیا میں قطر کی معاونت سے اپنی صفوں کو از سر نو منظم کرنا شروع کر دیا ہے۔ اس بات کا انکشاف عسکری ذرائع نے ایک اماراتی اخبار "الاتحاد" کو کیا۔ ذرائع کے مطابق قطر اس وقت داعش کے سیکڑوں مسلح عناصر کو شام اور عراق سے لیبیا کی سرزمین پر منتقل کر رہا ہے۔ اس اقدام کا مقصد شام اور عراق میں داعش کے کمزور ہو جانے کے بعد لیبیا کے جنوب میں شدت پسندوں کا گڑھ بنانا ہے۔

ایسا نظر آتا ہے کہ خطے میں "داعش" تنظیم کا خطرہ بدستور باقی ہے بالخصوص ایسے ممالک کی موجودگی میں جو خفیہ طور پر اس کو سپورٹ کر رہے ہیں۔

اماراتی اخبار نے لیبیا کے عسکری ذمے داران کے حوالے سے بتایا ہے کہ داعش کے مسلح ارکان نے ترکی کے راستے لیبیا کی جانب کوچ شروع کر دیا ہے۔

اخبار کے مطابق اس نقل و حرکت کے پیچھے دوحہ کا ہاتھ ہے جس پر گروپ چار کے عرب ممالک کی جانب سے دہشت گرد جماعتوں کی سپورٹ کا الزام عائد کیا جا چکا ہے۔ ان جماعتوں میں سیاسی تقسیم اور ریاست کی اتھارٹی کے عدم وجود کا شکار ملک لیبیا میں پاؤں جمانے والی جماعتیں شامل ہیں۔

لیبیا کی مسلح افواج کے ترجمان کرنل احمد المسماری نے رواں ماہ کے آغاز میں ایک بیان میں کہا تھا کہ داعش تنظیم ، اخوانی دھڑے اور القاعدہ کی ذیلی تنظیموں نے لیبیا میں شدت پسندی پھیلانے کے لیے گٹھ جوڑ کر لیا ہے۔ انہوں نے باور کرایا تھا کہ قطر داعش کے مسلح ارکان کو شام سے لیبیا منتقل کر رہا ہے اور لیبیا میں دہشت گرد جماعتوں کے لیے دوحہ کی مالی سپورٹ کا سلسلہ جاری ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں