.

لبنانی حکومت کو سپورٹ کرتے ہیں مگر حزب اللہ دہشت گرد تنظیم ہے : امریکا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ لبنان کی حکومت کی حمایت کرتی ہے تاہم لبنانی ملیشیا حزب اللہ کو ایک دہشت گرد تنظیم شمار کرتی ہے۔ منگل کے روز جاری بیان میں وزارت کا کہنا ہے کہ اسے لبنانی وزیراعظم سعد حریری کے مستعفی ہونے کے فیصلے سے متعلق کوئی پیشگی اطلاع موصول نہیں ہوئی۔

امریکی وزارت خارجہ کا یہ بیان حریری کی جانب سے ہفتے کے روز وزارت عظمی سے مستعفی ہونے کے اعلان کے چند روز بعد آیا ہے۔ سعد حریری نے استعفے کا اعلان سعودی دارالحکومت ریاض سے کیا۔

اس حوالے سے اپنے ٹیلی وژن خطاب میں مستعفی لبنانی وزیراعظم نے باور کرایا کہ ایران عرب دنیا کو تباہ کرنے کی شدید خواہش رکھتا ہے اور ایران جہاں بھی ہو گا وہاں تباہی اور فتنے جنم لیں گے۔ سعد حریری نے خبردار کیا کہ ایران خطے میں جہاں بھی شر انگیزی پھیلائے گا وہ اس پر لوٹ کر آئے گی۔ انہوں نے لبنانیوں اور شامیوں کے خلاف حزب اللہ کے ہتھیاروں کا استعمال ہونا مسترد کر دیا۔ حریری کے مطابق حزب اللہ کی مداخلت "ہمارے لیے اپنے عرب اطراف کے ساتھ مسائل کا سبب بنتی ہے"۔

یاد رہے کہ حریری کے استعفے نے لبنان میں وسیع پیمانے پر افرا تفری کا سماں پیدا کر دیا۔ اس سلسلے میں لبنان کے صدر میشیل عون یہ اعلان کر چکے ہیں کہ وہ حریری سے ملاقات اور اس فیصلے کی وجوہات جاننے سے قبل استعفاء قبول نہیں کریں گے۔

ادھر سعودی عرب نے حزب اللہ ملیشیا کے سبب لبنان کی حکومت کو ایک معاند حکومت شمار کرنا شروع کر دیا ہے۔ سعودی عرب کے وزیر مملکت برائے خلیجی امور ثامر السبہان نے پیر کے روز کہا کہ سعودی عرب کسی طور اس پر راضی نہ ہو گا کہ لبنان سعودی عرب کے خلاف جنگ میں شریک بنے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ حزب اللہ ملیشیا کے سبب لبنان کے ساتھ "اعلانِ جنگ" کرنے والے ملک کے طور پر نمٹا جائے گا۔ السبہان نے باور کرایا کہ حزب اللہ لبنانی حکومت کی جانب سے کیے جانے والے تمام فیصلوں پر اثرا انداز ہوتی ہے۔