مصر کے سابق وزیر داخلہ حبیب العادلی عدالتی فیصلے کی حکم عدولی پر گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

مصر کے سابق وزیر داخلہ حبیب العادلی کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں عدالتی فیصلے کی حکم عدولی پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔

حبیب العادلی معزول مطلق العنان صدر حسنی مبارک کے دور حکومت میں وزیر داخلہ رہے تھے۔انھوں نے اپریل میں اپنے خلاف دائر مقدمے کی حتمی سماعت کے موقع پرعدالت میں پیش ہونا تھا ۔انھوں نے تب ایک مرتبہ خود کو حکام کے حوالے کردیا تھا لیکن اس کے بعد وہ روپوش ہوگئے تھے اور پھر عدالت میں حاضر ہوئے اور نہ انھوں نے اپنے خلاف عدالت کے فیصلے پر عمل کیا ہے۔

عدالت نے اپریل میں سنائے گئے اس حکم میں حبیب العادلی اور ان کی سابق وزارت کے دو عہدے داروں کو کرپشن کی رقم ایک ارب پچانوے کروڑ مصری پاؤنڈز واپس قومی خزانے میں جمع کرانے کا حکم دیا تھا اور اتنی ہی رقم ان پر جرمانے کے طور پر عاید کی تھی۔

حبیب العادلی نے بدعنوانی کے اس الزام کی تردید کی تھی اور اس فیصلے کے خلاف مصر کی اعلیٰ سول عدالت میں اپیل دائر کرنے کا اعلان کیا تھا۔اب وہ جنوری میں اس عدالت میں پیش ہوں گے۔ ان کے وکیل نے ان کی گرفتاری پر فوری طور پر کوئی بیان جاری نہیں کیا ہے۔

قبل ازیں مصر کی سرکاری خبررساں ایجنسی مینا نے یہ اطلا ع دی تھی کہ حبیب العادلی کا سراغ لگا لیا گیا ہے لیکن ان کے اتا پتا یا گرفتاری کے بارے میں کچھ نہیں بتایا تھا۔

واضح رہے کہ حبیب العادلی مصر کی داخلی سکیورٹی کے محکمے میں ایک عرصے تک اعلیٰ عہدوں پر فائز رہے تھے۔ دو سال قبل عدالت نے انھیں بدعنوانی کے دوسرے الزامات میں قائم مقدمے میں بری کردیا تھا۔

ایک اور فوجی عدالت نے انھیں 2014ء میں سابق صدر حسنی مبارک اور ان کے چھے قریبی مصاحبین سمیت 2011ء کے اوائل میں عوامی احتجاجی تحریک کے دوران مظاہرین کے ہلاکتوں کے مقدمے میں بھی برّی کردیا تھا۔ یاد رہے کہ حسنی مبارک کی مطلق العنانی حکمرانی کے خلاف 2011ء میں عوامی تحریک کے دوران میں سکیورٹی فورسز کی کریک ڈاؤن کارروائیوں اور جھڑپوں میں آٹھ سو سے زیادہ افراد ہلاک ہوگئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں