.

العبادی کو ایران نواز گروپوں کی طرف سے چیلنج کا سامنا ہو سکتا ہے: مبصرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں سیاسی اور جماعتی فریقوں کی جانب سے اس اندیشے کا اظہار کیا گیا ہے کہ ملک میں مسلح گروپ اپنا اسلحہ مرکزی حکومت کے حوالے کرنے سے متعلق نجف میں اعلی ترین شیعہ مذہبی شخصیت علی سیستانی کے مطالبے کی مکمل پاسداری نہیں کریں گے۔ یہ صورت حال وزیر اعظم حیدر العبادی کے ملک میں اصلاحی منصوبے کے لیے چیلنج ثابت ہو سکتی ہے۔ بالخصوص جب کہ اس منصوبے میں جدید ہتھیاروں سے لیس تقریبا 1.4 لاکھ عناصر شامل ہیں۔

بعض دیگر حلقوں نے اس اندیشے کا بھی اظہار کیا ہے کہ بیرونی طاقتیں شیعہ ملیشیاوں کے مجموعے الحشد الشعبی کی تحویل سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں۔ ان طاقتوں میں ایران سرفہرست ہے جو حزب اللہ کے لبنانی ریاست کے کنٹرول سے باہر نمودار ہونے کا منظرنامہ عراق میں بھی دُہرا سکتا ہے۔

بعض مبصرین نے واضح کیا ہے کہ مذکورہ امر عراقی وزیراعظم العبادی کے حکام کے لیے چیلنج بن سکتا ہے اور بعض دیگر گروپوں کے لیے اس بات کا دروازہ کھول سکتا ہے کہ وہ حکومت سے دُور اپنی طاقت کا مظاہرہ کریں۔ یہ مظاہرہ خطے میں ایران کے توسیعی ایجنڈے پر عمل درامد کا حصّہ ہے۔

حیدر العبادی نے جمعے کی شام نجف میں اعلی ترین شیعہ مرجع علی سیستانی کے اس مطالبے کا خیرمقدم کیا ہے جس میں سیستانی نے الحشد الشعبی ملیشیا کے گروپوں پر زور دیا تھا کہ وہ اپنا اسلحہ مرکزی حکومت کے حوالے کر دیں۔

عراقی وزیراعظم کے دفتر سے جاری بیان میں واضح کیا گیا ہے کہ العبادی نے الحشد الشعبی کے گروپوں سے اسلحہ جمع کرنے کے اقدامات کا آغاز کر دیا ہے۔ اس کے علاوہ اس ملیشیا کے مسلح عناصر کو ریاست کے عسکری اور سکیورٹی اداروں میں ضم کرنے کے حوالے سے خصوصی کمیٹی بھی تشکیل پا چکی ہے۔

علی سیستانی نے جمعے کے روز مطالبہ کیا تھا کہ اسلحے کو ریاست کے قبضے تک محدود ہونا چاہیے۔ کربلا میں نماز جمعہ کے خطبے کے دوران اپنے ایک نمائندے کے ذریعے پہنچائے گئے پیغام میں سیستانی کا کہنا تھا کہ تمام تر ہتھیار ریاست کے کنٹرول میں ہونا چاہئیں۔ انہوں نے کہا کہ داعش کے خلاف جنگ میں شریک رضاکار عراقیوں کو ریاستی ڈھانچے میں ضم کرنا چاہیے۔