برطانیہ کے پانی میں روسی جنگی جہاز کے سبب کشیدگی
برطانوی وزارت دفاع نے منگل کے روز بتایا ہے کہ کرسمس کے موقع روس کا ایک بحری جہاز برطانیہ کی سمندری حدود کے قریب سے گزرا اس دوران برطانوی بحری جہاز اُس کے ہمراہ ہو گیا۔ وزارت دفاع کا مزید کہنا ہے کہ تعطیلات کے دوران برطانیہ کے قریب روس کی بحری سرگرمیوں میں اضافہ ہو گیا۔
وزارت دفاع کے مطابق 23 دسمبر کو برطانوی فرائیگیٹ HMS St Albans روسی جنگی جہاز Admiral Gorshkov کی نگرانی کے لیے روانہ ہوا جو اُس وقت سمندر کے شمال سے گزر رہا تھا۔ برطانوی بحری جہاز نے کرسمس کے دوران روسی جہاز کی کڑی نگرانی کی اور وہ منگل کے روز واپس پورٹس ماؤتھ واپس لوٹ آئے گا۔
برطانوی وزیر دفاع گیون ولیئمسَن نے واقعے کے بعد کہا کہ وہ اپنی سمندری حدود کے دفاع میں کسی طور نہیں ہچکچائیں گے یا کسی بھی قسم کی جارحیت کو برداشت نہیں کریں گے۔
برطانیہ اور روس کے درمیان تعلقات میں کشیدگی پائی جا رہی ہے۔ برطانوی وزیر خارجہ بوریس جونسن نے گزشتہ ہفتے اپنے روس کے دورے میں کہا تھا کہ اس بات کے "بہت سے شواہد" ہیں کہ ماسکو نے دیگر ممالک میں ہونے والے انتخابات میں مداخلت کی۔ اس موقع پر اُن کے روسی ہم منصب سرگئی لاؤروف کا کہنا تھا کہ جونسن کے دعوے کی کوئی دلیل نہیں پائی جاتی ہے۔
-
شامی اپوزیشن کی جانب سے "سُوشی" کانفرنس مسترد ، روس دشمن قرار
شامی اپوزیشن نے روس کی جانب سے اعلان کردہ اُس کانفرنس کو مسترد کر دیا ہے جو وہ ...
مشرق وسطی -
روس اپنی ساری فوج شام سے واپس نہیں بلائے گا: امریکا
شام میں ’داعش‘ کی سرکوبی کے لیے تشکیل دیئے گئے عالمی عسکری اتحاد کے ...
مشرق وسطی -
ادلب میں بچوں کا قتل عام، روس کا ذمہ داری قبول کرنے سے انکار
روسی وزارت دفاع نے شام کے شورش زدہ شہر ادلب میں نہتے شہریوں پر بمباری اور اس کے ...
مشرق وسطی