جنوبی نابلس میں فائرنگ سے یہودی آبادکار مذہبی پیشوا ہلاک

فائرنگ کے بعد نامعلوم حملہ آور جائے وقوعہ سے بحفاظت فرار ہو گئے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس میں ایک یہودی بستی کے قریب نامعلوم افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں ایک یہودی آباد کار ہلاک ہو گیا۔

اسرائیل کے عبرانی ٹی وی ’12‘ کے مطابق نامعلوم مسلح افراد نے گذشتہ رات یہودی آباد کاروں کی ایک گاڑی پر فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ایک صہیونی ہلاک ہو گیا۔ حملہ آور بہ حفاظت جائے وقوعہ سے فرار ہو گئے۔

عبرانی ٹی وی کے مطابق فائرنگ کے نتیجے میں یہودی آباد کار شدید زخمی ہوا جسے اسپتال منتقل کیا گیا تو ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی۔

اسرائیل کی ’روٹر نیٹ‘ ویب سائٹ کے مطابق نابلس کے بالمقابل حفات گیلاد کالونی میں ایک یہودی آبادکار کو فائرنگ کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں یہودی آباد کار شدید زخمی ہو گیا۔

حفات گیلاد یہودی کالونی کے باہر نشانہ بنائے گئے یہودی آباد کار کی شناخت رزئیل شیبح کے نام سے کی گئی ہے جس کی عمر 35 سال ہے اور وہ مذہبی پیشوا [ربی] بتایا جاتا ہے۔

مقتول کا والد موشے زار فلسطینیوں کی اراضی غصب کرنے والے ایک قبضہ گروپ کا سرغنہ ہے جس نے فلسطینیوں کی وسیع اراضی غصب کر رکھی ہے۔ موشے زار نابلس بلدیہ کے فلسطینی میئر بسام الشکعہ پر قاتلانہ حملے میں بھی ملوث بتایا جاتا ہے۔

واقعے کے فوری بعد اسرائیلی فوج کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کو گھیرے میں لے کر شواہد اکھٹے کیے۔ اسرائیلی فوج نے بورین قصبے کو ملانے والی تمام سڑکیں بند کر دیں جس کے خلاف فلسطینی آبادی نے احتجاج کیا۔

عینی شاہدین نے بتایا کہ یہودی آباد کار کے قتل کے بعد اسرائیلی فوج نے جائے وقوعہ کے قریبی قصبوں تل اور صرۃ کا محاصرہ کرکے گھر گھر تلاشی کی کارروائی کی اور گھروں میں خواتین اور بچوں کو زد وکوب کیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں