.

امریکا نے ایران کے 14 اداروں اور شخصیات پرپابندیاں عاید کردیں

پابندیوں کی زد میں آنے والوں میں جوڈیشل کونسل کا سربراہ بھی شامل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی حکومت نے ایران کے مزید 14 اداروں اور شخصیات پر نئی اقتصای پابندیاں عاید کی ہیں۔ پابندیوں کا شکار ہونے والوں میں ایرانی جوڈیشل کونسل کے چیئرمین صادق لاری جانی، رجائی شھر جیل کے سپرنڈنٹ مرتضیٰ رضوی، مواصلاتی کمپنیوں ’موج سبز‘ اور ’فنا موج‘ کے سربراہان بھی شامل ہیں۔ یہ دونوں کمپنیاں پاسداران انقلاب کے زیرانتظام کام کرتی ہیں اوران پر ایران میں انسانی حقوق کی پامالیوں اور ایران کے اسلحہ پروگرام میں معاونت کا الزام عاید کیا جاتا ہے۔

امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایرانی جوڈیشل کونسل کا سربراہ آیت اللہ صاد لاری جانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کا مقرب ہے اور وہ ملک میں موجودہ مذہبی حکومت کو برقرار رکھنے کے لیے انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کے احکامات صادر کرتا رہاہے۔

ایران پرعاید کردہ پابندیوں مین ایک چینی شہری بھی شامل ہے۔ اس پر ایرانی فوج کی ملکیتی بعض کمپنیوں کے ساتھ لین دین کا الزام ہے جب کہ ایک چینی کمپنی کو بھی ایران کو کیمیائی مشینیں اور آلات مہیا کرنے کا الزام ہے۔ یہ آلات الیکٹرک سگنلز کے لیے استعمال کیے جاتے ہیں۔

ایران سے جوہری سمجھوتے کی اخری نار توسیع

دوسری جانب امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ آخری بار ایرانی جوہری معاہدے کی توثیق کر رہے ہیں تاکہ یورپ اور امریکا اس معاہدے میں پائے جانے والے سنگین نقائص کو دور کر سکیں۔

امریکی صدر کی جانب سے ایران پر پابندیوں میں نرمی کی توثیق ہونے پر نرمی میں مزید 120 دن کا اضافہ ہو جائے گا۔

جمعے کو امریکی صدر کی جانب سے جاری ہونے والے ایک بیان میں ایران سے معاہدے پر نظرثانی کے حوالے کہا گیا ہے کہ’ یہ آخری موقع ہے، اس طرح کا معاہدہ نہ ہونے کی صورت میں امریکا معاہدے میں رہنے پر دوبارہ پابندیوں میں نرمی نہیں کرے گا۔‘

بیان میں مزید کہا گیا کہ’ اگر کسی بھی وقت انھیں اندازہ ہوا کہ اس طرح کا معاہدہ نہیں ہو سکتا تو وہ معاہدے سے فوری طور پر دستبردار ہو جائیں گے۔‘

وائٹ ہاؤس کے سینیئر اہلکاروں کا کہنا ہے کہ اگر نیا معاہدہ نہیں کرتے تو یہ آخری موقع ہے جو صدر نے پابندیوں میں نرمی کی توثیق کی ہے۔

کسی بھی بین الاقوامی معاہدے پر 120 دن کے اندر مذاکرات نہیں ہو سکتے جبکہ ایران بھی نیا معاہدہ نہیں چاہتا تو اس صورت میں صدر ٹرمپ یا تو پیچھے ہٹ جائیں گے یا اس سے لاگ ہو جائیں گے۔

اس سے پہلے امریکی حکام کا کہنا تھا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کےخلاف معطل کی جانے اقتصادی پابندیوں کو برقرار رکھیں گے اور سنہ 2015 میں طے پانے والا جوہری معاہدہ کو خطرہ میں نہیں پڑے گا۔

تاہم حکام کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب اس معاہدے میں بہتری کے لیے کانگریس اور یورپی اتحادیوں کو ڈیڈلائن متوقع ہے۔

خیال رہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ اس معاہدے سے سخت ناقد ہیں، جس کی وجہ سے طویل المدت بحران کا خاتمہ ہوا تھا۔

یورپی طاقتوں کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ عالمی سلامتی کے لیے اہم ہے۔

ایران اور چھ عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے سے ایران پر امریکہ اور عالمی طاقتوں کی جانب سے عائد پابندیوں کو معطل کیا گیا تھا جبکہ ایران نے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے کی حامی بھری تھی۔

تاہم امریکہ کی جانب سے دہشت گردی، انسانی حقوق اور بیلسٹک میزائل کی تیاری کے حوالے سے الگ سے پابندیاں تاحال قائم ہیں۔

انھوں نے ایران پر 'متعدد خلاف ورزیوں' کا الزام عائد کیا اور وعدہ کیا تھا کہ وہ کانگریس کے ساتھ مل کر معاہدے کی اس سخت غلطیوں کا ازالہ کریں گے۔

امریکی کانگریس میں اس معاہدے کے ناقدین نے بھی ایسی قانون سازی کی تجویز پیش کی ہے جس سے ایران کی جانب سے مخصوص عمل کرنے کی صورت میں پابندیاں عائد کی جا سکیں۔

دوسری جانب برطانیہ، فرانس، جرمنی اور یورپی یونین کے وزرا خارجہ نے اپنے ایرانی ہم منصب محمد جواد ظریف سے جمعرات کو برسلز میں ملاقات کی ہے اور اس معاہدے پر قائم رہنے کی تائید کی ہے، جس کو چین اور روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔