ایران میں بڑوں کی لڑائی ، نژاد کا لاریجانی خاندان پر لُوٹ مار کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 8 منٹ

ایران میں حکومتی نظام کے مختلف دھڑوں کے درمیان تنازعات اور جھگڑوں نے بڑھ کر "بدعنوانی" اور "غیرملکی ایجنٹ ہونے" کے الزامات کے تبادلے کی صورت اختیار کر لی ہے۔

اس سلسلے کی پیش رفت میں حکام نے کل جمعرات کے روز مجسل تشخیص مصلحت نظام کی ویب سائٹ پر سابق صدر محمود احمدی نژاد کا صفحہ بند کر دیا۔ یہ اقدام نجاد کی جانب سے لاریجانی خاندان اور پارلیمنٹ پر ظلم اور کریک ڈاؤن کے الزامات عائد کیے جانے کے بعد سامنے آیا۔ نجاد نے ان دونوں پر اقتدار ، ثروت اور منصبوں پر قبضے کا الزام بھی عائد کیا اور یہ بھی کہا کہ ان پر تنقید کرنے والے کو گرفتاری اور تشدد کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ نجاد نے یہ بات بدھ کے روز اپنے حامیوں کے ایک مجمع سے خطاب کرتے ہوئے کہی جو نجاد کے سابق معاون حمید بقائی کی جانب سے مذہبی دھرنے کے ساتھ اظہار یک جہتی کے لیے جمع ہوئے تھے۔

دولت بہار نامی ویب سائٹ پر ایک وڈیو کلپ جاری کیا گیا ہے جس میں حمید بقائی کے علاوہ نجاد کے مشیر اطلاعات علی جوانفکر اور ان کی حکومت کے ایک سینئر اہل کار حبیب اللہ خراسانی نظر آ رہے ہیں۔

خراسانی اور جوانفکر بھی حمید بقائی کے ساتھ ان کے مذہبی دھرنے میں شامل ہو گئے ہیں۔ انہوں نے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے جس میں عوام کو مخاطب کرتے ہوئے عدلیہ پر الزام لگایا کہ وہ من گھڑت الزامات گھڑ رہی ہے۔ حمید بقائی کے مطابق ان کے دھرنےکا مقصد ظالم عدلیہ کے سلوک پر احتجاج کرنا ہے۔ اس موقع پر جوانفکر نے واضح کیا کہ "ہمارے پاس شیعہ آئمہ کے مزارات کا سہارا لینے کے سوا کوئی چارہ نہیں کیوں کہ ہمارے یہاں رواجی عدالتیں ہیں"۔ مذہبی مزاروں پر دھرنے کا سلسلہ (1779- 1925) کے دور میں ملتا ہے جب قاجاری حکومت کے خوف سے فرار ہونے والے ناقدین یہاں پر پناہ حاصل کر تے تھے۔ احمدی نجاد کی حکومت کے اہل کاروں کا یہ دھرنا اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ اور ولایت فقیہ کے نظام کے اندر احتجاج کا ممکنہ طور پر سب سے شدید طریقہ ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ حالیہ تنازع انسداد بدعنوانی کے حوالے سے ہے مگر بنیادی طور پر اس کا سبب اقتدار کے دھڑوں کے بیچ زور آزمائی ہے۔ علی خامنہ ای کا قریبی دھڑا عدلیہ ، معیشت اور فیصلہ سازی کے مراکز پر قابض ہے اور وہ بدعنوانی کے معاملات کو اپنے مخاصمین کو مجرم ٹھہرانے ، قید کرنے یا پابندیاں اور بھاری جرمانے عائد کرنے کے واسطے استعمال کر رہا ہے۔

ٹرانسپیرنسی انٹرنیشنل نے ایران کو سب سے زیادہ بدعنوان ممالک کی فہرست میں رکھا ہے۔ فہرست کے مجموعی 175 ممالک میں ایران کا نمبر 136 ہے۔

احمدی نژاد کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ عدلیہ سابق صدر پر پابندی عائد کرنے یا انہیں نظربند کرنے کی راہ ہموار کر رہی ہے۔ یہ اقدام عدلیہ کے سربراہ صادق لاریجانی کے حکم سے کیا جا رہا ہے جو مرشد اعلی علی خامنہ کی مخالفت کرنے والے ہر شخص کے ساتھ شدید اختلافات رکھتے ہیں۔ رواں برس مئی میں مرشد اعلی علی خامنہ ای کے ساتھ اختلافات میں اضافے کے ساتھ ہی احمدی نژاد پر بھی دباؤ بڑھ گیا۔ خامنہ ای نے نژاد کو صدارتی انتخابات میں خود کو نامزد نہ کرنے کی ہدایت کی تھی۔ اس کے بعد خامنہ ای کے زیر غالب شوری نگہبان نے احمدی نژاد اور ان کے سابق معاون حمید بقائی کو نا اہل قرار دے کر ان کے کاغذات نامزدگی مسترد کر دیے تھے۔ احمدی نژاد نے خامنہ ای کو شدید نکتہ چینی کا نشانہ بناتے ہوئے ان کو سابق شاہ ایران رضا پہلوی سے تشبیہ دی۔ احمدی نژاد اور ان کی قریبی شخصیات پر اربوں ڈالر کے غبن اور لوٹ مار کے علاوہ تیل کے سیکٹر میں بدعنوانی کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔ رواں برس اگست میں ایرانی حکام نے ایرانی صدر حسن روحانی کے نائب اسحاق جہانگیری کے بھائی مہدی جہانگیری کو مالی بدعنوانی کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا جو تہران چیمبر آف کامرس کے سربراہ بھی ہیں۔ انہوں نے احمدی نژاد کے دور حکومت میں متعدد سرکاری منصبوں پر کام کیا۔ عدلیہ نے احمدی نژاد کی حکومت کے کئی اہل کاروں کو بدعنوانی اور عوام کا مال لُوٹنے کے الزامات کے تحت قید اور جرمانے کی سزا دی۔ ان میں صدر کے نائب محمد رضا رحیمی بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب ایرانی صدر حسن روحانی کے دھڑے کا شدت پسندوں کے دھڑے کے ساتھ جن میں عدلیہ کے سربراہ صادق لاریجانی سرِ فہرست ہیں.. تنازع بھی شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ ارب پتی تاجر بابک زنجانی کی طرف سے انکشاف کیا گیا کہ اس نے 2013 کے انتخابات میں صدر حسن روحانی کی انتخابی مہم کے لیے مالی رقوم پیش کیں جس کے بعد عدلیہ کے سربراہ صادق لاریجانی کی جانب سے روحانی کو سخت نکتہ چینی کا نشانہ بنایا گیا۔ اس سے قبل پارلیمنٹ کے اصلاح پسند ارکان نے عدلیہ کے سربراہ پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ بینکوں میں 63 ذاتی کھاتوں کے مالک ہیں جن میں اربوں کی رقم زیر گردش ہے۔ رواں برس جون میں ایرانی حکومت کے متعدد ذمہ داران اور بینکوں اور مالیاتی اداروں کے سربراہان کو برطرف کر دیا گیا تھا جو تنخواہوں سے متعلق اسکینڈلوں میں ملوث رہے۔ یہ افراد 17 ہزار ڈالر ماہانہ تنخواہیں وصول کر رہے تھے جو ریاست میں کام کرنے والے ڈائریکٹروں کی نارمل تنخواہوں کی نسبت دس گنا زیادہ ہے۔ شدت پسند حلقوں کی جانب سے روحانی کی حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا ہے کہ اس نے 2015 میں جوہری معاہدے کے وقت سے ایران کے اندر مغربی رسوخ اور امریکی داخلے کا دروازہ کھول دیا ہے۔

بڑوں کی لڑائی اور غربت

ایران میں اقتدار کے دھڑوں کے بیچ یہ تنازعات ایسے وقت میں جاری ہیں جب ملک میں طبقاتی فرق سے متعلق اعداد و شمار نے عوام کے اندر غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے۔ اس وقت ایران میں لاکھوں افراد بے روزگار ہیں جب کہ 1.5 کروڑ شہری غرب کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔

ملک میں وسیع پیمانے پر مزدور طبقے کی جانب سے تنخواہوں اور اجرتوں کی کمی اور ان کی ادائیگی میں تاخیر پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ ایرانی پاسداران انقلاب کے زیر انتظام مالیاتی اداروں کے خلاف مظاہرے کیے جا رہے ہیں جنہوں نے دیوالیہ ہونے کے بہانے لاکھوں شہریوں کی رقوم ضبط کر لی ہیں۔

بدعنوانی کا عفریت

یاد رہے کہ ایرانی ریاستی اداروں میں بدعنوانی غیر مسبوق ریکارڈ سطح پر پہنچ چکی ہے جو حکم راں نظام کے مستقبل کے لیے خطرہ بن چکی ہے۔ ایرانی سیاست داں اور صدارتی انتخابات کے ایک سابق امیدوار احمد توکلی اپنے ایک سابقہ بیان میں کہہ چکے ہیں کہ "ایران میں موجودہ نظام کا سقوط کسی فوجی انقلاب اور حملے یا کسی مخملی انقلاب کے ذریعے واقع نہیں ہو گا بلکہ یہ بدعنوانی کا عفریت ہے جو اس نظام کو زمین بوس کر دے گا"۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں