شام میں "غصن الزيتون" آپریشن میں ترکی کا پہلا فوجی ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

ترکی کی فوج نے پیر کی شام ایک اعلان میں بتایا کہ شام کے شمال میں کرد اہداف پر حملوں کے تیسرے روز اُس کا پہلا فوجی اہل کار ہلاک ہو گیا۔

فوج کی جانب سے جاری بیان کے مطابق مذکورہ فوجی ترکی کے سرحدی شہر گل بابا کے جنوب مشرق میں پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے مسلح کرد ارکان کے ساتھ جھڑپوں میں مارا گیا۔

ترکی کی فوج نے ہفتے کے روز "غصن الزيتون" فوجی آپریشن کا آغاز کیا تھا جو شام میں سات برسوں سے جاری خانہ جنگی میں دوسری مرکزی مداخلت ہے۔

آپریشن میں ترکی کے لڑاکا طیارے اور توپ خانے شریک ہیں جب کہ بڑے زمینی حملے میں انقرہ کے حمایت یافتہ شامی اپوزیشن کے جنگجو بھی شامل ہیں۔ آپریشن کا مقصد شام کے علاقے عفرین میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کا خاتمہ ہے۔

ترکی مذکورہ کرد یونٹس کو کردستان ورکرز پارٹی کی شاخ شمار کرتا ہے جس نے کئی دہائیوں سے ترک ریاست کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر رکھا ہے۔

ترکی نے شام کے علاقے عفرین کے مشرق میں کرد پیپلز پروٹیکشن یونٹس کے خلاف پہلا حملہ اگست 2016 میں کیا تھا۔ اس آپریشن کا نام "فرات کی ڈھال" تھا جو مارچ 2017 تک جاری رہا۔

واضح رہے کہ مذکورہ آپریشن میں ترکی کے 72 فوجی ہلاک ہوئے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں