’ایمنسٹی‘کا ایران میں انقلاب کی علامت دوشیزہ کی فوری رہائی کا مطالبہ
’دختر شاہراہ انقلاب‘ گرفتاری کے بعد نامعلوم مقام پر منتقل
انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ حالیہ ہفتوں کے دوران حکومت مخالف احتجاجی مظاہروں میں پیش پیش رہنے والی ایک دوشیزہ کےبارے میں بتائے اسے کہاں اور کس حال میں رکھا گیا ہے۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ’ایمنسٹی‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں ’ دخترشاہراہ تہران ‘ کے لقب سے مشہور ہونے والی دو شیزہ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہوئے تہران پر امتیازی سلوک برتنے کا الزام عاید کیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ایران میں حالیہ ایام میں مظاہروں کے دوران سفید دوپٹا لہرانے سے مشہور ہونے والی لڑکی کے بارے میں بتایا جائے کہ اسے کہاں اور کس حال میں رکھا گیا ہے۔
خیال رہے کہ گذشتہ دنوں ایران تہران میں حکومت کے خلاف نکالے گئے ایک جلوس کے دوران ایک نوجوان لڑکی کو اپنا سفید دوپٹا لاٹھی کے ساتھ ہوا میں لہراتے دیکھا گیا تھا۔ اس واقعے کی فوٹیج سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی۔ بعد ازاں یہ اطلاعات ملی تھیں کہ مظاہرین کے ھجوم کے سامنے بہ طور احتجاج سفید دوپٹا سر سے اتار کر لہرانے والی لڑکی کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ایران میں ’سفید بدھ‘ یا ’وائیٹ وینزڈے‘ کے عنوان سے خواتین سماجی کارکن ایک تحریک بھی چلا رہی ہیں۔ اس تحریک کے دوران ایران میں مذہبی حکومت کی طرف سے مسلط کردہ لازمی حجاب کے خلاف سفید دوپٹے لہرا کر احتجاج کیا جاتا ہے۔
سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی فوٹیج میں انقلاب کی ’علامت‘ قرار دی جانے والی لڑکی کی عمر 31 سال بتائی جاتی ہے تاہم اس کا نام سامنے نہیں آسکا ہے۔ اس کی دوپٹہ لہرانے والی تصویر سوشل میڈیا پر غیرمعمولی طور پرمقبول ہوئی تھی۔
انسانی حقوق کی تنظیم کا کہنا ہے کہ اسے دو آزاد ذرائع سے اطلاعات ملی ہیں کہ ’دوشیزہ شاہراہ انقلاب‘ کو حراست میں لیا گیا مگر سیکیورٹی اداروں کے انتقام کے خوف سےاس کے اہل خانہ خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں۔
ایران کی سماجی کارکن اورخاتون قانون دان نسرین ستودہ نے اپنے ’فیس بک‘ صفحے پر پوسٹ بیان میں لکھا ہے کہ مذکورہ لڑکی کو رہائی کے بعد دوبارہ حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ستودہ کا کہنا ہے کہ وہ لڑکی کا نام نہیں جانتیں تاہم اتنا معلوم ہوا کہ اس کی عمر اکتیس سال ہے اور وہ ایک بچے کی ماں ہیں۔
سوشل میڈیا پر ’دخترخیابان انقلاب کجاست‘ کےعنوان سے ایک مہم بھی جاری ہے جس میں گرفتار لڑکے بارے میں استفسار کیا گیا کہ وہ کہاں ہے؟۔