.

کردوں کے لیے امریکی سپورٹ ترکی کے ساتھ شراکت میں زہرِ قاتل : اوگلو

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے وزیر خارجہ مولود چاوش اوگلو کا کہنا ہے کہ امریکی فوج کی جانب سے شام میں کرد پروٹیکشن یونٹس کو پیش کی جانے والی سپورٹ "نہ صرف ترکی کے امن کو خطرے میں ڈال رہی ہے بلکہ یہ انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان طویل عرصے سے جاری شراکت داری کو بھی زہر آلود کر دے گی"۔

اوگلو نے یہ بات جنوری میں کینیڈا کے شہر وینکوور میں شمالی کوریا کے حوالے سے ایک اجلاس میں شرکت کے موقع پر کینیڈیئن جریدے "اوٹاوا لائف میگزین" سے بات کرتے ہوئے کہی۔ یہ گفتگو جریدے کی فروری کی اشاعت میں شائع ہوئی ہے۔

چاوش اوگلو کے مطابق ترکی اور امریکا کے تعلقات دونوں ملکوں کے نقطہ ہائے نظر میں اختلافات کی روشنی میں اس وقت نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ بالخصوص جب کہ امریکا اُن عناصر کی سرگرمیوں کو سپورٹ کر رہا ہے جن کو انقرہ دہشت گرد عناصر میں شمار کرتا ہے۔ ان میں ترکی میں بغاوت کے علم بردار اور شام میں سرگرم کُرد عناصر اور امریکا میں مقیم ترک مذہبی شخصیت فتح اللہ گولن کی تنظیم شامل ہے۔

ترکی پیپلز پروٹیکشن یونٹس کو ڈیموکریٹک ورکر پارٹی کا مسلح دھر شمار کرتا ہے جس نے ترکی کے جنوب مشرق میں کرد اکثریتی علاقوں میں کئی دہائیوں سے بغاوت کر رکھی۔

شام کے حالات کے حوالے سے چاوش اوگلو نے کہا کہ شام کے مستقبل کا تعین خود شامی عوام کریں گے اور تاریخ ہمیں بتاتی ہے کہ آخرکار عوام کا ارادہ ہی فتح یاب ہوتا ہے۔

ترک وزیر خارجہ نے باور کرایا کہ ان کا ملک آستانہ ، سوشی اور جنیوا میں ہونے والی بات چیت کی کامیابی کو یقینی بنانے کے لیے اپنی بھرپور کوششیں جاری رکھے گا تا کہ 2018 شام کے تنازع کے حوالے سے آخری سال ثابت ہو۔

چاوش اوگلو کا مزید کہنا تھا کہ جب تنازع کا ایک مستقل سیاسی حل تلاش کر لیا جائے تو پھر عالمی برادتی کو دیگر مشکل چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے تیار رہنا چاہیے تا کہ شام میں جنگ سے تباہ حال انفرا اسٹرکچر کی تعمیر نو اور پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی واپسی ہو سکے۔

عراقی کردستان میں خود مختاری اور علاحدگی سے متعلق ہونے والے ریفرنڈم کے حوالے سے چاوش اوگلو نے عراق کی وحدت اور خود مختاری برقرار رکھنے پر زور دیا۔

یہ امر ترکی کے لیے فیصلہ کن اہمیت کا حامل ہے اسی لیے ترکی نے ریفرنڈم کی مخالفت کی۔

انہوں نے باور کرایا کہ بغداد اور اربیل کے درمیان مذاکرات شروع ہونے کی صورت میں ترکی اس کے سب سے بڑے حامیوں میں سے ہو گا۔