شامی فوج کی باغیوں کے زیر قبضہ دوما شہر پر بڑے حملے کی تیاری
جیش الاسلام کا انخلا سے انکار ، روس اور دمشق حکومت پر علاقے کی آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کا الزام
شامی فوج مشرقی الغوطہ میں واقع بڑے شہر دوما میں باغیوں کے خلاف ایک بڑی کارروائی کی تیاری کررہی ہےلیکن اگر مزاحمت کار گروپ جیش الاسلام اس شہر کا کنٹرول شامی فوجی کے حوالے کرنے پر آمادہ ہوجاتا ہے تو اس کارروائی کو ٹالا جاسکتا ہے۔
شامی فوج نے روس کی فضائی مدد سے حالیہ چند ہفتوں کے دوران میں مشرقی الغوطہ میں واقع دوسرے تمام چھوٹے بڑے قصبوں اور دیہا ت پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے اور باغی گروپ شامی حکومت یا روس کے ساتھ سمجھوتے کے تحت ان قصبوں کو خالی کرکے شمال مغربی صوبے ادلب کی جانب چلے گئے ہیں یا جارہے ہیں ۔
لیکن جیش الاسلام کی قیادت دوما کو خالی کرنے سے انکار کر چکی ہے اور اس کے جنگجوؤں کا کہنا ہے کہ وہ تادم مرگ شہر کا دفاع کریں گے۔اس شہر میں ہزاروں افراد ایک فصیل نما علاقے میں رہ رہے ہیں اور شامی فوج نے ان کی چاروں اطراف سے ناکا بندی کررکھی ہے۔
شامی حکومت کے حامی ایک اخبار الوطن نے بدھ کو اپنی ایک رپورٹ میں اطلاع دی ہے کہ ’’ اگر جیش الاسلام کے دہشت گرد شہر کو حوالے کرنے اور انخلا پر آمادہ نہیں ہوتے تو مشرقی الغوطہ میں تعینات فورسز دوما میں ان کے خلاف ایک بڑے فوجی آپریشن کی تیاری کررہی ہیں‘‘۔
ایک شامی عہدہ دار نے اپنی شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا ہے کہ دوما میں صورت حال بہت ہی نازک مرحلے میں داخل ہوچکی ہے اور آیندہ دو روز فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں ‘‘۔
جیش الاسلام نے منگل کے روز کہا تھا کہ روس نے ابھی تک اس کی دوما سے متعلق تجاویز کا کوئی جواب نہیں دیا ہے ۔اس نے دمشق اور ماسکو پر الزام عاید کیا تھا کہ وہ اس علاقے کے مکینوں کا زبردستی انخلا کرکے آبادی کے تناسب کو تبدیل کررہے ہیں ۔