.

شامی شہر حمص کے ہوائی اڈے پر حملہ، 4 ایرانیوں سمیت 14 ہلاکتیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار حکومت کے میڈیا نے پیر کے روز بتایا ہے کہ حمص کے نواح میں التیفور کے ہوائی اڈے پر کئی میزائل داغے گئے ہیں۔ شامی حکومت کی ویب سائٹوں کے مطابق مذکورہ عسکری ہوائی اڈے کو اسرائیلی طیاروں نے حملے کا نشانہ بنایا۔

دوسری جانب شام میں انسانی حقوق کے نگراں گروپ المرصد نے التیفور ہوائی اڈے پر حملے میں 14 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے جن میں چار ایرانی بھی شامل ہیں۔

اس سے قبل شامی حکومت کے ٹیلی وژن نے خیال ظاہر کیا تھا کہ حملہ امریکا کی جانب سے کیا گیا ہے۔ ادھر ایک سینئر امریکی عہدے دار نے واضح کیا کہ شام میں امریکی حملے کے حوالے سے رپورٹوں میں کوئی صداقت نہیں۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون کا کہنا تھا کہ اس نے صورت حال پر کڑی نظر رکھی ہوئی ہے اور وہ شام میں کسی قسم کی عسکری کارروائی نہیں کر رہا بلکہ وہ شام میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کرنے کے ذمّے دار عناصر کے احتساب کے واسطے سفارتی کوششوں کو سپورٹ کرتا ہے۔

شامی حکومت کے میڈیا نے التیفور کے ہوائی اڈّے پر حملے میں متعدد افراد کے ہلاک اور زخمی ہونے کا ذکر کیا ہے۔ سرکاری ذرائع ابلاغ نے ہوائی اڈے پر 8 میزائلوں کے گرنے کا دعوی کیا ہے اور بعض تصاویر بھی نشر کی ہیں جن کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ حملے کی ہیں۔

واشنگٹن میں العربیہ نیوز چینل کی نامہ نگار سے گفتگو کرتے ہوئے پینٹاگون کے ترجمان نے بتایا کہ "ایسی کوئی بات نہیں جس کی تصدیق کی جائے۔ شام کے التیفور ہوائی اڈے پر امریکی میزائلوں کے داغے جانے کے حوالے سے معلومات درست نہیں"۔

ادھر بعض غیر مصدقہ خبروں میں کہا گیا ہے کہ امریکا کی جانب سے "کروز" میزائل داغے گئے تاہم بعض دیگر رپورٹوں میں ان میزائلوں کے بارے میں پینٹاگون کو علم ہونے کی تردید کی گئی ہے۔

العربیہ کی نامہ نگار کے مطابق امریکی آئین صدر کو یہ حق دیتا ہے کہ وہ کانگریس سے رجوع کیے بغیر عسکری ضربوں کا حکم جاری کر دے۔

اس سے قبل پیر کی صبح امریکی انتظامیہ کے ذرائع نے بتایا کہ امریکی حکام کے جائزے کے مطابق شام میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول شہر پر حملے میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا تاہم حکام ابھی تک حملے کی تفصیلات پر سوچ بچار کر رہی ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل پیر کے روز دو اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ یہ دونوں اجلاس شام میں مہلک کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے بعد روس اور امریکا کی علاحدہ درخواستوں پر طلب کیے گئے ہیں۔

ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ یہ کہہ چکے ہیں کہ شام میں بشار حکومت کے ہاتھوں محصور شہر پر کیمیائی حملے کی "بھاری قیمت چکانا" ہو گی۔ واضح رہے کہ طبی امداد کی جماعتوں نے حملے مین زہریلی گیس سے درجنوں افراد کے جاں بحق ہونے کا ذکر کیا تھا۔