.

یمن : الحدیدہ کے قیدیوں کی جانب سے مدد کی اپیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن کے شہر الحدیدہ میں مرکزی جیل کے قیدیوں نے جمعے کی شام آئینی حکومت، مغربی ساحل کے محاذ کی کمان اور بین الاقوامی، مقامی اور علاقائی تنظیموں سے مدد کی اپیل کی ہے۔

مقامی ذرائع کے مطابق حوثی ملیشیا جس نے بعض قیدیوں کو دیگر صوبوں میں منتقل کیا تھا، وہ الحدیدہ کی مرکزی جیل میں تمام قیدیوں کو مغربی ساحل کے محاذ پر باغیوں کے شانہ بشانہ لڑنے پر مجبور کرنے میں ناکام ہو گئی۔ اس کے نتیجے میں حوثیوں نے متعدد قیدیوں کو قتل کر دیا جب کہ کئی افراد زخمی بھی ہوئے۔ باغیوں نے بہت سے قیدیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا اور انہیں کھانے پینے سے روک دیا۔

حوثی ملیشیا نے جیل کے اندر قیدیوں کو محصور کر دیا اور ان کے اہل خانہ کو جمعے کی دوپہر قیدیوں سے ملاقات کرنے اور کھانے کی اشیاء پہنچانے سے بھی روک دیا۔

یہ پیش رفت جمعرات کے روز الحدیدہ کی مرکزی جیل میں ہونے والی جھڑپوں کے بعد سامنے آئی ہے۔ جھڑپوں میں حوثی ملیشیا نے براہ راست فائرنگ کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں کئی قیدی جاں بحق اور زخمی ہو گئے۔ ان قیدیوں نے دیگر صوبوں کو منتقلی اور بھرتی کے حوالے سے حوثیوں کے احکامات ماننے سے انکار کر دیا تھا۔

دوسری جانب یمن کے جنوبی صوبے ذمار میں حوثی ملیشیا نے مرکزی جیل سے 5 ایسے افراد کو فرار کروا دیا جن کو قتل کے مقدمات میں قصور وار ٹھہرایا گیا تھا۔ اس اقدام کا مقصد مذکورہ افراد کو مغربی ساحل میں الحدیدہ کے محاذ پر لڑائی کے لیے منتقل کرنا تھا۔ مقامی ذرائع کے مطابق ان قیدیوں میں سابقہ عسکری اہل کار اور اسپیشل فورسز کا ایک افسر شامل ہے۔

اس حوالے سے ایک سرکاری دستاویز بھی سامنے آیا ہے جس پر باغی حوثی ملیشیا کے رہ نما محمد حسین المقدشی کے دستخط ہیں۔ یہ دستاویز ایک دوسرے حوثی کمانڈر احمد الحربی کو بھیجی گئی۔ دستاویز سے "ذمار صوبے کی مرکزی جیل سے قیدیوں کے فرار سمیت سکیورٹی عدم توازن کا سلسلہ ظاہر ہوتا ہے"۔

یہ دستاویز حوثی ملیشیا کو درپیش انارکی اور ذمار کی صورت حال پر کنٹرول کی عدم قدرت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔