ماضی میں برسراقتدار کسی سیاست دان کو وزیراعظم نہیں ہونا چاہیے: علی السیستانی
عراق کے اہل تشیع کے بااثر مذہبی پیشوا آیت اللہ علی السیستانی نے کہا ہے کہ وہ گزرے برسوں میں برسر اقتدار رہنے والے سیاست دانوں میں سے کسی کو ملک کا آیندہ وزیراعظم بنانے کے حق میں نہیں جبکہ یہ سیاست دانوں خود کو وزارتِ عظمیٰ کا امیدوار نامزد کررہے ہیں۔
آیت اللہ علی السیستانی کے دفتر نے سوموار کو ایک وضاحتی بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ ان کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے بعض امیدواروں کو مسترد کیے جانے سے متعلق رپورٹس درست نہیں ۔ان میں ان کے عراقی آئین سے اتفاق کا حوالہ دیا گیا تھا۔آئین کے مطابق سب سے بڑے پارلیمانی بلاک کو وزیراعظم نامزد کرنے کا حق حاصل ہے۔
السیستانی کی ویب سائٹ پر جاری کردہ اس بیان میں کہا گیا ہے:’’مذہبی مرجع نے استرداد کا اظہار نہیں کیا ہے۔اس نے کسی خاص جانب سے کسی خاص فرد کا نام نہیں لیا تھا بلکہ مرجع کے ساتھ ابلاغ کرنے والے فریقوں کو بالواسطہ یا براہ راست یہ بتا دیا گیا تھا کہ اگر ماضی کے برسوں میں برسر اقتدار رہنے والے سیاست دانوں میں سے کسی کا آیندہ کے وزیراعظم کے طور پر انتخاب کیا جاتا ہے تو وہ اس کی حمایت نہیں کرتا ہے۔اس نے پارٹی کے امیدواروں یا آزاد سیاست دانوں میں کسی کی تمیز نہیں کی تھی‘‘۔
قبل ازیں اصلاح اور تعمیر بلاک میں شامل سائرون اتحاد کے ایک عہدہ دار صباح الساعدی نے یہ کہا تھا کہ انھیں شیعہ رہ نما علی السیستانی کی جانب سے باضابطہ طور پر آگاہ کردیا گیا ہے کہ انھوں نے وزارت ِ عظمیٰ کے لیے حیدر العبادی سمیت تمام مجوزہ ناموں کو مسترد کردیا ہے۔
ساعدی کا کہنا تھا کہ السیستانی نے نجف میں ایرانی مذاکرات کار کو ایک ملاقات میں آگاہ کردیا ہے کہ عراق کی آیندہ کابینہ میں حیدر العبادی ، نوری المالکی ، ہادی العامری ، فالح الفیاض اور طارق نجم پر وزارت ِعظمیٰ کے عہدے کے لیے قسمت مہربان نہیں ہے‘‘۔