غزہ :اقوام متحدہ کی ایجنسی کے ہزاروں ملازمین کا جبری برطرفیوں کے خلاف احتجاجی مظاہرہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

غزہ میں اقوام متحد ہ کے تحت فلسطینی مہاجرین کی امدادی ایجنسی اُنرو ا کے ہزاروں ملازمین نے اپنی ملازمتیں کھوجانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے اور آیندہ ہفتے ایک دن کی ہڑتا ل کا اعلان کیا ہے۔

اُنروا نے امریکا کی جانب سے ملنے والی کروڑوں ڈالرز کی امداد کی کٹوتی کے بعد اپنے ہزاروں ملازمین کو جبری فارغ خطی دے دی ہے۔ اس اقدام کے خلاف غزہ میں اُنروا کے ہیڈ کوارٹرز کے باہر بدھ کو پانچ ہزار سے زیادہ فلسطینیوں نے شرکت کی ہے۔ مظاہرے میں حماس اور دوسرے فلسطینی دھڑوں کے سینیر قائدین بھی شریک تھے۔

امریکی امداد کی کٹوتی کے بعد اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی مالی مشکلات سے دوچار ہوگئی ہے اور اس نے غزہ اور مغربی کنارے میں مزید ڈھائی سو اسامیاں ختم کرنے اور پانچ سو سے زیادہ کل وقتی ملازمین کو جزوقتی قرار دینے کا اعلان کردیا ہے۔

امریکا فلسطینی مہاجرین کو بنیادی شہری سہولیات مہیا کرنے کی ذمے دار اس ایجنسی کو 35 کروڑ ڈالرز سالانہ امداد کی شکل میں دے رہا تھا لیکن صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس سال کے اوائل سے یہ تمام کی تمام رقم بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس رقم کو اسرائیل کی امداد یا دوسرے منصوبوں کے لیے مختص کردیا ہے۔

واضح رہے کہ اُنروا گذشتہ کئی عشروں سے پچاس لاکھ سے زیادہ فلسطینی مہاجرین کو خوراک شکل میں امداد مہیا کر رہی ہے اور تیس لاکھ کے لگ بھگ فلسطینیوں کو تعلیم اور صحت سمیت مختلف شہری خدمات مہیا کررہی ہے۔غزہ کی پٹی میں مقیم قریباً 80 فی صد فلسطینی اس ایجنسی کی امداد کے اہل ہیں ۔اسرائیل کے محاصرہ زدہ اس فلسطینی علاقے میں اُنروا کے ملازمین کی تعداد قریباً تیرہ ہزار ہے۔ان کا کہنا ہے کہ اگر انھیں بے روزگار کرنے کا سلسلہ جاری رہا تو ان کے اہلِ خانہ نانِ جویں کو ترس جائیں گے اور انھیں جان کے لالے پڑ جائیں گے۔

اُنروا نے مالی مسائل سے دوچار ہونے کے بعد غزہ میں اپنے ملازمین کو جبری برطرف کرنا شروع کردیا ہے جس پر فلسطینیوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جارہا ہے۔غزہ میں اُنروا کے سربراہ نے ایجنسی کی مزدور یونین پر بغاوت برپا کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

آج احتجاجی مظاہرے کے دورا ن میں یونین کے نمایندے امیر المشعل نے آیندہ سوموار کو اُنروا کے تحت تمام ایجنسیوں میں احتجاجی تحریک کے پہلے قدم کے طور پر مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔انھوں نے فلسطینی صدر محمود عباس سے اس معاملے میں مداخلت کا مطالبہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے گذشتہ ہفتے خبردار کیا تھا کہ اسرائیل کی گذشتہ گیارہ سال سے جاری ناکا بندی کے بعد غزہ کی پٹی میں صورت حال انتہائی ناگفتہ بہ ہے اور وہ کسی بڑے انسانی المیہ کا پیش خیمہ ہوسکتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں