روس نے طیارہ گرائے جانے کا الزام ایک بار پھر اسرائیل کے سَر تھوپ دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

روسی وزارت دفاع نے شام کی فضاؤں میں اپنے ایک فوجی طیارے کے گرائے جانے کا سبب بننے پر ایک بار پھر اسرائیل کو مورد الزام ٹھہرایا ہے۔

شام کی سرکاری فوج نے پیر کے روز اسرائیلی لڑاکا طیارے کے بجائے روس کے ایک "L-20" سروے طیارے پر فائرنگ کر دی تھی۔ اس کے نتیجے میں روسی طیارے میں سوار 15 افراد ہلاک ہو گئے۔

ابتدا میں روسی فوج نے طیارے سے ہاتھ دھونے پر اسرائیل کو ملامت کا نشانہ بنایا۔ اس کے بعد روسی صدر ولادی میر پوتین نے کشیدگی کی شدّت کو کم کرتے ہوئے طیارے کے گرائے جانے کے بارے میں کہا کہ یہ "لڑائی کی افسوس ناک صورت حال کے نتیجے میں ہوا"۔

روسی وزارت دفاع نے اتوار کے روز کہا کہ روسی طیارے کے گرائے جانے کے حادثے سے کچھ دیر قبل ایک اسرائیلی لڑاکا طیارہ شام کے ساحلی صوبے لاذقیہ کے اوپر اڑان بھر رہا تھا جس نے دانستہ طور پر روسی طیارے کو اپنی ڈھال بنا لیا۔

وزارت دفاع کے ترجمان میجر جنرل ایگور کوناشنکوف نے واضح کیا کہ اسرائیلی ہواباز کی حرکت سے "پیشہ ورانہ اہلیت کا فقدان یا پھر مجرمانہ غفلت" کا اظہار ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں