صدام دور کے دو افسر عراقی حکومت کے وزیر کیسے بن گئے؟

صدام حسین کے حامی وزراء کو برطرفی کا سامنا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

عراق میں حال ہی میں بننے والی حکومت میں دو ایسی شخصیات کے شامل ہونے کی خبریں ہیں جو ماضی میں ‌مصلوب صدر صدام حسین کے ساتھ اہم عہدوں پر کام کرچکی ہیں۔

خبر رساں اداروں کے مطابق اگرچہ ان دونوں وزراء کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی مگر انہیں صدام حسین کے دور کے افسر ہونے کی بناء پر وزارتوں سے محروم کیا جا سکتا ہے۔

عراق میں صدام دور کے لوگوں کو اقتدار تک پہنچنے سے روکنے کے لیے قائم کردہ "مسئلہ و انصاف بورڈ" نے سابق دور کے دو اہم افسروں کو موجودہ حکومت میں وزیر بنائے جانےکے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔ یہ بورڈ صدام حسین کے حامیوں اور ان کی باقیات کو اعلیٰ عہدوں پر فائز ہونے سے روکنے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔

انصاف بورڈ کے ترجمان فارس عبدالستار نے پارلیممنٹ کو لکھے گئے ایک مکتوب میں کہا کہ حکومت کی جانب سے کابینہ میں شمولیت کے لیے جن 22 افراد کے نام بھیجے گئے تھے ان میں دو نام ایسے بھی ہیں جو ماضی میں صدام حسین کے ساتھ کام کر چکے ہیں۔

انصاف بورڈ کی طرف سے ان دونوں وزراء کے نام ظاہر نہیں ‌کیے گئے۔ وہ 25 اکتوبر کو پارلیمنٹ سے اعتماد کا ووٹ بھی حاصل کر چکے ہیں۔

عراق کے ایک سیکیورٹی ذریعے نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ موجودہ حکومت میں صدام حسین کے ساتھ کام کرنے والے جن افراد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ان میں بعث پارٹی کے رکن اور صدام حسین کے انٹیلی جنس ادارے کے افسر نعیم الربیعی اور احمد العبیدی ہیں۔ احمد العبیدی کو کھیل اور امور نوجوانان جب کہ نعیم الربیعی کو ٹیلی کام کی وزارت سونپی گئی ہے۔

عراقی پارلیمنٹ کے ایک ذمہ دار نے بتایا کہ صدام حسین دور کی دونوں شخصیات کو ان کے عہدوں سے ہٹا کر پارلیمنٹ سے دوبارہ اعتماد کا ووٹ لیا جائے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں