عراقی وزیراعظم کا مستعفی ہونے کا عندیہ، سیاسی منظر میں ہلچل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

عراق کے وزیراعظم عادل عبدالمہدی نے حکومتی تشکیل کی تکمیل بالخصوص بقیہ وزارتی قلم دانوں کے حوالے سے درپیش مشکلات کے نتیجے میں اپنے منصب سے مستعفی ہو جانے کا عندیہ دیا ہے جس کے بعد پارلیمنٹ کے سیاسی بلاکوں کو دشوار صورت حال کا سامنا ہے۔

عراقی کابینہ کے حالیہ چودہ وزراء میں سے کسی بھی ایک اور وزیر کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک منظور ہونے کی صورت میں حکومت ختم ہو جائے گا۔ اس کے نتیجے میں صدر برہم صالح کو وزارت عظمی کے لیے کسی دوسری شخصیت کو نامزد کرنا ہو گا جس سے عراق کا سیاسی منظرنامہ پیچیدہ ہو جائے گا۔

عادل عبدالمہدی پارلیمانی بلاکوں پر دباؤ کا "کارڈ" استعمال کر رہے ہیں جو غالبا آخری حربہ ہے۔ عراقی وزیراعظم کے لیے خطرہ پیدا ہو گیا ہے کہ وہ مقررہ عرصے کے دوران حکومتی تشکیل مکمل نہیں کر سکیں گے۔

عادل عبدالمہدی اس سے قبل دو مرتبہ اعلی منصبوں سے مستعفہ ہو چکے ہیں۔ ایک مرتبہ وہ ملک کے نائب صدر تھے جب کہ دوسری مرتبہ بطور وزیر تیل وہ اپنے عہدے سے سبک دوش ہو گئے تھے۔ لہذا اس بنیاد پر پارلیمانی بلاکوں کو عراقی وزیراعظم کے حالیہ عندیے کا پورا اعتبار ہو گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں