یمنی بچے کا سعودی ولی عہد کے ذاتی خرچ پر ریاض میں علاج
رواف آل عوفان کو والدین اور سعودی میڈیکل ٹیم کے ہمراہ ریاض منتقل کر دیا گیا
سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے یمن سے تعلق رکھنے والے ایک بچے کا علاج اپنے ذاتی خرچ پر کرانے کا اعلان کیا ہے۔ رواف آل عوفان نامی یمنی بچہ دماغی دبلا پن کے مرض میں مبتلا ہے جس کے باعث دماغ میں انتہائی نوعیت کی سوزش نے اس کی داہنی آنکھ ناکارہ بنا دی ہے۔
یمن میں سعودی عرب کے سفیر محمد آل جابر نے ٹویٹ پیغام میں بتایا کہ ’’شہزادہ محمد کے حکم پر عمل کرتے ہوئے رواف آل عوفان کا علاج ان کے ذاتی خرچ ہو کرایا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے لئے رواف آل عوفان اپنے والدین اور سعودی میڈیکل ٹیم کے ہمراہ ریاض لایا گیا ہے جہاں ریاض کے ایک ہسپتال میں ننھے مریض کے ٹیسٹ اور ضروری علاج ہو رہا ہے۔ ‘‘
رواف آل عوفان کے والد جابر آل عوفان نے بتایا کہ ان کا بیٹا پیدائش کے وقت سے ہی خطرناک دماغی سوزش کا شکار ہے۔ پیدائش کے وقت رواف کو رحم مادر سے آنول کے ذریعے خوراک فراہم کرنے والی ناڑ اس کی گردن کے گرد لپٹنے سے اسے سانس لینے میں دشواری رہی۔ اس کے بعد رواف کے جسم میں پانی بھرنا شروع ہو گیا جس سے دماغ میں سوجن پیدا ہونا شروع ہو گئی۔ اس صورتحال میں رواف کی طبیعت بگڑنے لگی جس نے آنکھ میں سوجن پیدا کی جو بعد ازاں سرطان بن کر دائیں آنکھ کی بصارت ختم کرنے کا باعث بنی۔