ترکی کے سرحدی محافظوں کا شامی صحافی اور اس کے خاندان پر وحشیانہ تشدّد
شام سے تعلق رکھنے والے ایک صحافی مازن الشامی کوسرحد ی علاقے میں پڑوسی ملک ترکی کے ایک سرحدی محافظ نے اپنے ساتھیوں سے مل کر وحشیانہ تشدّد کا نشانہ بنا یا ہے جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے ہیں۔ اس ترک افسر نے ان کے ساتھ ان کے خاندان کے دو اور افراد کو بھی جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا۔انھوں نے اپنے زخموں کی تصاویر اور ویڈیو انٹرنیٹ پر جاری کی ہیں۔
مازن الشامی نے اپنے فیس بُک صفحے پر اپنی تشدد زدہ تصاویر شائع کی ہیں اور ایک ویڈیو یو ٹیوب پر پوسٹ کی ہے ۔شامی کارکنان ان کی خوب تشہیر کررہے ہیں۔الشامی صدر بشارالاسد کی حکومت کی مخالفت کے لیے مشہور ہیں۔ان کا سرحد پر ترک افسر سے آمنا سامنا ہوا تھا۔
وہ واقعے کے بارے میں لکھتے ہیں:’’ انقلاب کے نوسال کے بعد دیکھیے مجھ سے اور میرے خاندان کے ساتھ کیا سلوک کیا جارہا ہے۔اس پر اندرون اور بیرون ملک انقلابی حکام کا شکریہ۔شام اور ترکی کے درمیان سرحد پر ایک ترک افسر نے مجھے میرے خاندان اور بچّوں کے سامنے تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔اس نے یہ سب کچھ تب کیا جب اسے یہ معلوم ہوا کہ میں ایک شامی صحافی ہوں‘‘۔
بشارالاسد کے مخالف شامی صحافیوں کی تنظیم نے مازن الشامی کے حوالے سے کہا ہے کہ شامی حزبِ اختلاف نے ان کی علاج کی غرض سے ترکی میں داخلے میں مدد دینے کے لیے درخواست کا بھی کوئی جواب نہیں دیا ہے۔واضح رہے کہ شامی حزب اختلاف کو ماضی میں ترکی کی مکمل حمایت حاصل رہی ہے اور وہ اب بھی بعض شامی گروپوں کی سیاسی اور فوجی امداد کررہا ہے۔
صحافیوں کی تنظیم نے مزید کہا ہے کہ سرحدی محافظوں نے الشامی اور ان کے خاندا ن کے افراد کے سر مونڈھ دیے تھے ،انھیں مارا پیٹا اور تشدد کا نشانہ بنایا۔سرحد کے نزدیک واقع ایک فارم میں ان سے زبردستی گھاس کٹوائی اور پھر انھیں باب الہوا کی سرحدی گذرگاہ سے واپس شامی علاقے کی جانب دھکیل دیا۔
الشامی اور ان کا خاندان شام کے شمال مغربی صوبے ادلب پر شامی فوج کے حالیہ حملوں کے بعد جانیں بچانے کے لیے ترکی کے سرحدی علاقے کی جانب گئے تھے مگر ترکی کے سرحدی محافظوں نے انھیں تین گھنٹے سرحد پر حراست میں رکھا اور اس دوران میں انھیں تشدد کا نشانہ بنایا۔ ویڈیو اور تصاویر میں الشامی اور ان کے خاندان کے افراد پر تشدد کے واضح نشان دیکھے جاسکتے ہیں۔ ان کی ٹانگیں اور بازو زخمی ہیں اور کپڑے پھٹے ہوئے ہیں۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی ہے۔اس نے اس میں بتایا ہے کہ شام میں صدر بشار الاسد کے خلاف عوامی احتجاجی تحریک کے آغاز کے بعد سے ترکی کی سرحد عبور کرتے ہوئے 419 شامی شہری مارے جا چکے ہیں۔ ان میں 75 بچے اور 38 خواتین بھی شامل تھیں۔ترکی کے سرحدی محافظوں پر گھربار چھوڑ کر آنے والے شامیوں پر براہ راست گولیاں چلانے کے بھی الزامات عاید کیے جاتے ہیں اور شامی رصدگاہ کا کہنا ہے کہ ترک فوج اب کم وبیش روزانہ ہی فائرنگ کررہی ہے۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی متعدد تنظیموں نے بھی ترکی کے سرحدی محافظوں کے شہریوں پر حملوں کی تفصیل جمع کی ہے ۔ہیومن رائٹس واچ نے گذشتہ سال اپنی ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ شام سے گھربار چھوڑ کر آنے والے بہت سے شہریوں پر ترکی کے سرحدی علاقے میں داخل ہونے کی کوشش کے دوران میں گولیاں چلائی گئی ہیں۔اس کے نتیجے میں ان میں سے بہت سے افراد ہلاک یا زخمی ہوگئے ہیں۔