آزادی صحافت سے محروم قطر آزادی صحافت منانے میں پیش پیش !

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کی لکھاری Lia Kvatum نے قطر کی جانب سے آزادی صحافت منانے کے لیے واشنگٹن میں منعقد کی جانے والی تقریب کی ہنسی اڑائی ہے۔ لیا کے مطابق تقریب کی میزبانی میں ایسا ملک شریک تھا جہاں آزادی صحافت کا کوئی وجود نہیں ہے۔

لیا نے واشنگٹن پوسٹ میں دس جون کو شائع ہونے والے اپنے مضمون میں بتایا کہ مذکورہ تقریب رواں سال اپریل میں وہائٹ ہاؤس کے نامہ نگاروں کے عشائیے سے قبل " یونائیٹڈ اسٹیٹس انسٹی ٹیوٹ آف پِیس" میں منعقد ہوئی۔ اس موقع پر تقریب کا ہال حاضرین سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔

لیا نے اپنے طور پر یہ جاننے کی کوشش کی کہ آزادی صحافت سے متعلق اس تقریب میں شرکت پر صحافیوں کے کیا احساسات ہیں جس کی میزبانی میں ایسا ملک شریک ہے جس کے لوگ آزادی صحافت کے قریب بھی نہ پھٹکے ہوں؟"۔

مضمون نگار نے اس سلسلے میں بعض صحافیوں اور نامہ نگاروں سے بات چیت کی۔ قطر میں آزادی صحافت کے وجود سے متعلق سوال پر مختلف مواقف سامنے آئے۔ بعض نے سوال کا جواب گول مول کر دیا اور بعض نے کہا کہ جواب دینے کے لیے اُن سے بہتر لوگ موجود ہیں۔

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ ڈپلومیٹ کی مینجنگ ایڈیٹر اینا گیول کے مطابق قطر بنیادی طور پر اس ایونٹ کا شریک میزبان نہ تھا۔ سال 2018 کے شریک میزبان برطانیہ کی جانب سے رواں سال آخری وقت پر دست بردار ہو جانے کے سبب اخبار نے قطر کا تعاون حاصل کیا۔

واشنگٹن میں قطر کے سفارت خانے کے میڈیا اتاشی جاسم بن منصور آل ثانی کے مطابق صحافیوں کے لیے پہلا عشائیہ تھا جس کی میزبانی میں ان کا ملک شریک ہوا۔ آل ثانی کا کہنا تھا کہ "قطر نے ملک میں اور دنیا بھر میں ذرائع ابلاغ کے ساتھ احترام کا معاملہ رکھا ہے۔ ہم مضبوط، منصفانہ اور خود مختار صحافت پر راسخ یقین رکھتے ہیں"۔

امریکی اخبار کی لکھاری لیا کے مطابق الجزیرہ ٹی وی اور اس کے علاوہ دیگر مقامی میڈیا کی جانب سے انتہائی محدود پیمانے پر تنقیدی رپورٹیں سامنے آتی ہیں۔ قطر کے امیر کی جانب سے قائم کیے گئے "دوحہ سینٹر فار میڈیا فریڈم" کو ایک عشرے کے بعد رواں سال 16 اپریل کو بند کر دیا گیا۔ یہ اقدام واشنگٹن میں صحافیوں کے عشائیے سے دس روز پہلے سامنے آیا۔

مضمون نگار نے یہ بھی تحریر کیا ہے کہ قطر میں صحافیوں کو گرفتار کیا گیا۔ ان میں برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی ویب سائٹ کا نمائندہ بھی شامل ہے۔ اسے 2015 میں مختصر عرصے کے لیے حراست میں لیا گیا جب وہ تارک وطن لیبر کی حالت کے متعلق رپورٹیں پیش کرنے کے واسطے مصروف عمل تھا۔ جاسم آل ثانی کے مطابق بی بی سی کا نمائندے کو نجی املاک تک خود سے رسائی کے الزام میں حراست میں لیا گیا تھا۔

آزادی صحافت سے متعلق ایک آزاد واچ ڈاگ گروپ Freedom House کی سینئر ڈائریکٹر ریسرچ اینڈ انالیسس سارہ ریپوکی کے مطابق صحافت کے حوالے سے قطر انتہائی شدید کریک ڈاؤن کا رجحان رکھتا ہے اور اسے ہلکا نہیں سمجھنا چاہے۔

لیا کے مطابق انہوں نے تقریب میں جن افراد کے ساتھ بات چیت کی ان میں اکثریت میڈیا کے ساتھ قطر کے معاملے سے ناواقف تھی۔ تقریب میں شریک عالمی بینک کے ایک اکانومسٹ کی ساتھی خاتون کا کہنا تھا کہ یہ چیز پریشان کن ہے کہ قطر جیسی استبدادی ریاست امریکا جیسے مقام پر آزادی صحافت سے متعلق تقریب کے انعقاد میں شریک ہے۔ روسی خاتون کے مطابق یہ لوگ ساکھ کی خریداری کر رہے ہیں جس کا کوئی جواز نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں