لبنانی وزیراعظم نے اپنے وزیر کے قافلے پر حملے کے بعد کابینہ کا اجلاس ملتوی کردیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

لبنان کے وزیر اعظم سعد الحریری نے اپنے ایک وزیر کے قافلے پر حملے کے بعد کابینہ کا آج ہونے والا اجلاس 48 گھنٹے کے لیے ملتوی کردیا ہے۔ ان کی کابینہ میں شامل وزیر مملکت برائے مہاجرین صالح الغریب کے قافلے پر اتوار کو نامعلوم مسلح افراد نے فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں قافلے میں شامل ان کے دو معاونین مارے گئے تھے۔

سعد الحریری نے منگل کے روز ایک نشری تقریر میں کہا ہے کہ عدلیہ اس واقعے کے ذمے داروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے تمام ضروری اقدامات کرے گی اور ان کا مواخذہ کرے گی۔

انھوں نے کہا کہ ’’لبنان کی سلامتی ایک سُرخ لکیر ہے لیکن سیاسی اظہار رائے بھی ایک حق ہے۔ کوئی بھی اس ملک میں کوئی مسئلہ نہیں چاہتا ہے ۔میری خواہش ہے کہ میڈیا جبلِ لبنان میں پیش آنے والے واقعے کے بارے میں مبالغہ آرائی سے کام نہ لے‘‘۔

لبنانی وزیر کے قافلے پر جبلِ لبنان میں واقع علاقے عالیہ میں فائرنگ کی گئی تھی۔یہ علاقہ دمشق مخالف دروز لیڈر ولید جنبلاط کے حامیوں کا مضبوط گڑھ سمجھا جاتا ہے۔ان کی جماعت ترقی پسند سوشلسٹ پارٹی ( پی ایس پی) نے اس واقعے سے لاتعلقی کا اظہار کیا تھا۔

فائرنگ کے واقعے کے وقت ولید جنبلاط کے حامیوں نے جبلِ لبنان میں واقع شہروں اور دیہات کی جانب جانے والی شاہراہوں کو بند کررکھا تھا۔وہ لبنان کے وزیر خارجہ اور فری پیٹریاٹک موومنٹ کے سربراہ جبران باسیل کے اس علاقے کے دورے کی مخالفت کررہے تھے اور انھوں نے ان کی راہ روکنے کے لیے شاہراہیں بند کررکھی تھیں۔

پی ایس پی کا کہنا تھا کہ وزیر کے محافظوں نے مظاہرین پر فائرنگ کردی تھی حالانکہ وہ بند شاہراہ کو کھولنے کی کوشش کررہے تھے اور وہاں رکھی رکاوٹوں کو ہٹا رہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں