قطر سیاسی بالغ نظری کا مظاہرہ کرے : قرقاش
متحدہ عرب امارات کے وزیر مملکت برائے خارجہ امور انور قرقاش کا کہنا ہے کہ "دوحہ کی حکمت عملیوں سے ہمدردی ہے جو ٹی وی پروگراموں پر مبنی ہوتی ہیں اور ان میں صرف اپنے عوام کو ہی خطاب کیا جاتا ہے۔ اس پر ہمدردی ہے کیوں کہ اس کا گھر شیشے کا ہے اور اس کی تاریخ ایسے بہت سے امور پر مشتمل ہے جن کو مخفی رکھا جانا چاہیے"۔
پیر کے روز اپنی ٹویٹ میں قرقاش کا کہنا تھا کہ عقل و دانش کا تقاضا ہے کہ بحران اور اس کے علاوہ ہم سیاسی نادانی اور خود مختاری اور مال کی بربادی کے حوالے سے جو کچھ دیکھ رہےہیں ،،، اس کو ختم کیا جائے"۔
تشفق على استراتيجيات الدوحة التي تقوم على برامج تلفزيونية لا تخاطب الا جمهورها، تشفق عليها لأن بيتها من زجاج وتاريخها يحمل الكثير مما يجب أن تخفيه، التوجه العاقل أولويته أن يفك الأزمة وما نراه مراهقة سياسية وترهات إعلامية وهدر السيادة والمال.
— د. أنور قرقاش (@AnwarGargash) July 15, 2019
انور قرقاش نے اتوار کے روز ایک دوسری ٹویٹ میں کہا تھا کہ قطری شہریوں کے لیے حج کی ادائیگی سے متعلق آسانیاں پیدا کرنے کی سعودی وزارت عمرہ و حج کی اپیل عاقلانہ فیصلہ ہے۔ قرقاش کا کہنا تھا کہ عازمین حج کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنا دراصل قطر کی جانب سے اپنے بحران کے حل میں ناکامی پر دلالت کرتا ہے۔ قطر حج جیسے اہم دینی فریضے کو سیاست کی نظر کرنے سے گریز کرے۔ قطری عازمین حج پر پابندی کی منطق اور دلیل کمزور موقف کی عکاس ہیں۔
سعودی عرب کی حج اور عمرے کی وزارت نے قطر میں متعلقہ حکام پر زور دیا ہے کہ وہ فریضہ حج کی ادائی کے خواہش مند قطری شہریوں کی مملکت آمد کو آسان بنائے .. اور اس حوالے سے قطری حکومت کی جانب سے عائد رکاوٹوں کو ختم کرے۔
مملکت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی SPA کے مطابق سعودی وزارت حج نے ہفتے کے روز جاری بیان میں باور کرایا کہ خادم حرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی حکومت قطر سے معتمرین اور عازمین حج کی آمد کو آسان بنانے کے لیے اسی طرح تمام تر وسائل بروئے کار لانے کی خواہش مند ہے جس طرح وہ عموما پوری دنیا کے عازمین حج کے واسطے خواہش رکھتی ہے۔ رواں سال 1440 ہجری کے لیے دنیا بھر سے 17 لاکھ سے زیادہ عازمین حج کی آمد پر اتفاق ہوا ہے جب کہ اس سال کے دوران دنیا بھر سے 80 لاکھ کے قریب مسلمانوں نے عمرہ ادا کیا۔